مشرقِ وسطیٰ کا تنازع، پسنے والا صرف مزدور کیوں؟
تحریر( قاضی تحسین احمد ہاشمی ) مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی محض چند ممالک کا جنگی محاذ نہیں رہی بلکہ اس نے ایک عالمگیر معاشی سونامی کی شکل اختیار کر لی ہے
عالمی سیاست کے شطرنج پر جب طاقتور مہرے آپس میں ٹکراتے ہیں، تو اس کی گونج دور دراز بیٹھے اس محنت کش کے گھر میں بھی سنائی دیتی ہے جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کی تگ و دو میں مصروف ہے
تاریخ گواہ ہے کہ انسانی تہذیب کی بنیاد سے ہی جنگ کا سلسلہ جاری ہے مگر موجودہ دور کی جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں۔ آج کی جنگ کا ایک بڑا ہتھیار توانائی اورمعاشی ناکہ بندی ہے
موجودہ تنازع کی سب سے نمایاں خصوصیت آبنائے ہرمزہے جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا بھر کے تیل کی تقریباً 80 فیصد فراہمی کا انحصار اسی تنگ سمندری گزرگاہ پر ہے
ایران کا اس راستے پر کنٹرول عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا اہم ذریعہ ہے جب بھی اس خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور توانائی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے
ترقی یافتہ ممالک کے پاس تو توانائی کے بڑے ذخائر اور متبادل ذرائع موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس بحران کا جھٹکا سہہ جاتے ہیں لیکن پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ترقی پذیر ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہیں
اس بحران کی براہِ راست زد میں آتے ہیں ان ممالک میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی پوری معیشت میں مہنگائی کا طوفان برپا کر دیتا ہے
توانائی کے اس بحران نے پیداواری عمل کو مفلوج کر دیا ہے کارخانوں کی لاگت میں اضافے کا بوجھ سب سے پہلے لیبر پر ڈالا جاتا ہے۔ ایک طرف مزدور روزگار سے محروم ہو رہا ہے تو دوسری طرف وہ اس مہنگائی کی بھٹی میں جھلس رہا ہے جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا
پاکستان جیسے ملک میں جہاں پٹرول کی قیمت میں ایک ہی دن میں 55 روپے کا ہوش ربا اضافہ کیا گیا وہاں ایک مزدور کا زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں
وہ محنت کش جو مزدوری کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتا ہے یا پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتا ہے، اس کی آمدن کا ایک بڑا حصہ اب صرف آنے جانے کے کرایے کی نذر ہو رہا ہے ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ غریب آدمی کی کمر توڑ چکا ہے
یہ وہ نازک موڑ ہے جہاں خاموشی مجرمانہ ہو جاتی ہے میری پاکستان کی تمام مزدور یونینوں سے خواہ ان کا تعلق کسی بھی پلیٹ فارم یا سیاسی جماعت سے ہودرخواست ہے کہ وہ اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر مزدور اور محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے یک زبان ہو جائیں
حکومتِ پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ متوسط اور مزدور طبقہ اب مزید بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا ریاست کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر محنت کشوں کے لیے ایک خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کرے
بجلی کے بلوں میں رعایت، پبلک ٹرانسپورٹ پر سبسڈی اور بنیادی اشیاءِ خوردونوش کی سستے داموں فراہمی وہ اقدامات ہیں جو اس مشکل دور میں مزدور کو جینے کا حوصلہ دے سکتے ہیں۔
اگر آج ہم نے اس استحصالی نظام کے خلاف آواز بلند نہ کی اور اپنے مزدور کی بقا کے لیے عملی اقدامات نہ کیے، تو یہ معاشی بحران ایک ایسا سماجی خلا پیدا کر دے گا جسے بھرنا آنے والی نسلوں کے لیے ناممکن ہوگا۔
