محنت کش کی کم اجرت اور بقا کی جنگ
تحریر ( رانا جبران ) پاکستان کی معیشت اس وقت جس نہج پر کھڑی ہے اس کا سب سے بڑا خمیازہ وہ مزدور بھگت رہا ہے جس کے کندھوں پر اس ملک کی صنعتی اور زرعی ترقی کا پہیہ گھومتا ہے آج جب ہم بڑے بڑے معاشی اعداد و شمار اور جی ڈی پی کی بات کرتے ہیں تو ہم اس سچائی کو بھول جاتے ہیں کہ ایک عام محنت کش کے گھر کا چولہا بجھ چکا ہے
کمر توڑ مہنگائی اور کم از کم اجرت کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج محض ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے، افراطِ زر کا طوفان اور بے بس مزدور بے بس ہوچکا ہے
پاکستان کے محنت کشوں کے لیئے سب سے سنگین مسئلہ افراطِ زر کی وہ لہر ہے جس نے گزشتہ چند سالوں میں تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں آٹے، چینی، دالوں اور گھی جیسی بنیادی اشیاءِ خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ ہر چیز کو مہنگا کر دیا ہے اس پر مستزاد بجلی کے بھاری بھرکم بل ہیں، جو ایک مزدور کی ماہانہ آمدن کا آدھا حصہ نگل جاتے ہیں۔ آج کا مزدور اس کشمکش میں ہے کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالے، اسکول کی فیس دے یا بجلی کا بل جمع کروائے
حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت جو مختلف صوبوں میں 32,000 سے 37,000 روپے کے درمیان ہے موجودہ مہنگائی کے تناسب سے ایک مذاق سے کم نہیں ہے۔ موجودہ معاشی اشاریوں کے مطابق ایک پانچ افراد کے خاندان کے لیے صرف بنیادی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی یہ رقم ناکافی ہے
جب ایک مزدور کی پوری تنخواہ صرف راشن اور کرائے میں ختم ہو جائے، تو وہ علاج معالجے اور بچوں کی تعلیم کا بوجھ کیسے اٹھائے گا؟
بدقسمتی یہ ہے کہ نجی شعبے کے بہت سے اداروں میں تو یہ مقررہ اجرت بھی ادا نہیں کی جاتی، اور حکومتی مشینری اس پر عملدرآمد کروانے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے
اس بحران کے محرکات گہرے ہیں۔ ہماری معاشی پالیسیاں ہمیشہ سے اوپر سے نیچے رہی ہیں جہاں بڑے صنعت کاروں کو تو سبسڈیز اور مراعات دی جاتی ہیں، لیکن مزدور کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ ٹھیکیداری نظام نے مزدور کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے ہیں
مزدور کو نہ تو ملازمت کا تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی سوشل سیکیورٹی کے فوائد آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور بالواسطہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب طبقے پر ڈال دیا گیا ہے، جبکہ بااثر طبقہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے
موجودہ حکمران اور مزدور بیوروکریسی اگر واقعی پاکستان کے محنت کش کو اس دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں تو ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے جس میںکم از کم اجرت کو فوری طور پر 50,000 روپے تک بڑھایا جائے اور اسے افراطِ زر کے تناسب سے خودکار طریقے سے بڑھانے کا نظام وضع کیا جائے
مزدروں کی حکومتی سطھ پر رجسٹریشن کی جائے تا کہ رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے آٹا، چینی، دالیں اور گھی یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے آدھی قیمت پر فراہم ہو سکے ،
تمام صنعتی اداروں میں ٹھیکیداری نظام ختم کر کے مزدوروں کو براہِ راست ملازمت دی جائے تاکہ وہ سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی کے فوائد حاصل کر سکیں لیبر انسپکشن کے فعال نظام بہتر کرتے ہوئے چاروں صوبائی محکمہ محنت کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر کے یہ یقینی بنایا جائے کہ ہر فیکٹری اور ادارے میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد ہو رہا ہ
محنت کش طبقے پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور مراعات یافتہ طبقے پر براہِ راست ٹیکس عائد کیے جائیں تاکہ معاشی توازن پیدا ہو
پاکستان کا مزدور بھیک نہیں اپنا حق مانگ رہا ہے ملی لیبر فیڈریشن یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ اگر ریاست نے محنت کشوں کے معاشی استحصال کو فوری طور پر نہ روکا تو مایوسی کی یہ لہر ایک بڑے سماجی احتجاج کی شکل اختیار کر سکتی ہے
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جس ملک کا مزدور بھوکا سوئے گا اس ملک کی معیشت کبھی ترقی نہیں کر سکے گی۔
تعارف: رانا جبران ملی لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر اور ملک کے ممتاز مزدور رہنما ہیں وہ پاکستان بھر کے محنت کشوں مختلف مزدور تنظیموں اور ان کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے نظریے کے داعی ہیں۔ ان کی سوچ کا محور بکھری ہوئی مزدور قوت کو یکجا کر کے حقوق کے لیے ایک مشترکہ اور توانا جدوجہد کا آغاز کرنا ہے جس کے لیے وہ عملی طور پر ہمہ وقت سرگرمِ عمل ہیں
