نام نہاد قیادت مزدور تحریک کا المیہ
تحریر ( محمد سلیم ) پاکستان میں مزدوروں کی حالتِ زار محض ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک گہرے سماجی اور سیاسی بحران کا عکاس ہے۔ آج جب ہم ملک کے طول و عرض میں محنت کشوں کے پسینے اور ان کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی بات کرتے ہیں، تو ایک کڑوی حقیقت سامنے آتی ہے
اس بدحالی کے ذمہ دار صرف سرمایہ دار یا وقت کی حکومتیں نہیں، بلکہ وہ نام نہاد مزدور رہنما بھی ہیں جنہوں نے مزدور کے نام پر اپنی تقدیر تو بدل لی، مگر مزدور وہیں کا وہیں رہ گیا
یہ ایک دردناک مشاہدہ ہے کہ دہائیوں سے جاری مزدور تحریکوں کے باوجود محنت کش طبقے کی زندگی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آ سکی اس کے برعکس ان کی نمائندگی کرنے والے کئی لیبر لیڈروں کا طرزِ زندگی حیرت انگیز طور پر تبدیل ہو چکا ہے
جب مزدور کا نمائندہ ایوانوں کی مراعات اور ذاتی مفادات کو محنت کش کی جھونپڑی پر ترجیح دینے لگے تو تحریک کا رخ مڑ جاتا ہے ان رویوں نے نہ صرف عام مزدور کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ اس اجتماعی جدوجہد کو بھی کمزور کر دیا ہے جو کسی بھی تبدیلی کی بنیاد ہوتی ہے
تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے تمام رہنما ایک جیسے نہیں ہوتے آج بھی بہت سے ایسے مخلص اور نظریاتی کارکن موجود ہیں جو مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے شور و غوغا میں ان کی آواز اکثر دب جاتی ہے
اصل مسئلہ جڑوں میں ہے ہمارے ملک کا حقیقی مزدور اپنے بنیادی حقوق اور قوانین سے مکمل طور پر ناواقف ہے چاہے وہ قومی لیبر قوانین ہوں یا بین الاقوامی سطح پر طے شدہ حقوق، مزدور کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ریاست اور آجر اس کے سامنے کن باتوں کے پابند ہیں
یہی وہ خلا ہے جہاں سے نام نہاد قیادت جنم لیتی ہے جب تک مزدور کو اپنے حقوق کا علم نہیں ہوگا، وہ آسانی سے کسی بھی مفاد پرست ٹولے کے زیرِ اثر آ جائے گا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آگاہی اور شعور دے گا کون ظاہر ہے وہ لوگ تو یہ ذمہ داری کبھی نہیں اٹھائیں گے جن کے مفادات اسی لاعلمی سے جڑے ہیں۔ اگر مزدور باشعور ہو گیا تو وہ سوال کرے گا، اور سوال کرنا ہی استحصالی قیادت کی موت ہے
اس بحران کا واحد حل یہ ہے کہ مخلص یونینز، باشعور ورکرز، اور حقیقی نمائندے خود آگے بڑھ کر تعلیم اور شعور کی مہم چلائیں۔ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں پیچیدہ قانونی اصطلاحات کے بجائے سادہ اور عام فہم زبان میں ورکرز کو ان کے حقوق سمجھائے جائیں
مزدور کو جہاں اس کے حقوق بتائے جائیں، وہیں اس کی ذمہ داریوں اور فرائض کو بھی واضح کیا جائے تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ابھرے مزدوروں میں یہ ہمت پیدا کرنی ہوگی کہ وہ اپنی قیادت کا احتساب کریں اور صرف ان لوگوں کو آگے لائیں جو واقعی ان کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوں
حقیقی طاقت کرسیوں یا عہدوں میں نہیں بلکہ شعور اور علم میں ہے جب مزدور باشعور ہو جائے گا تو اسے کسی مسیحا کی ضرورت نہیں رہے گی وہ خود فیصلہ کرنے کے قابل ہوگا اور اپنی طاقت کو پہچان لے گا
مزدور تحریک کو مضبوط شفاف اور جوابدہ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک شعور کی شمع نہیں جلے گی، تب تک تبدیلی کی منزل ایک خواب ہی رہے گی
تعارف : محمد سلیم پاکستان کے معروف مزدور رہنما اور پاکستان فیڈرشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے صدر ہیں مصنف کیمیکل، توانائی اور مائنز سیکٹر سے وابستہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ، لیبر قوانین کے نفاذ اور صنعتی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی مزدور تحریک میں اپنی جدوجہد، مؤثر قیادت اور محنت کشوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں
