سیاست، ہنر اور سماج
تحریر( محمد خان ابڑو ) میرا سیاسی اور سماجی سفر اس دور میں شروع ہوا جب طالب علم سیاست کا مقصد محض نعرہ بازی نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی شعور تھا۔ جی ایم سید اور اس وقت کی دیگر قومی تحریکوں کے سائے میں ہم نے سیکھا کہ سیاست دراصل قوم کی خدمت اور ایک بہتر معاشرے کی تخلیق کا نام ہے
اس وقت کی طالب علم سیاست اور آج کے دور میں ایک بڑا فرق یہ تھا کہ ہم سیاست کے ساتھ اپنی پڑھائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ مطالعہ، بحث و مباحثہ اور نظریاتی پختگی ہمارے روزمرہ کا حصہ تھی
سماجی ذمہ داری اور مخلص کارکنوں کا قحط ہر دور میں رہا ہے آج جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں تو مجھے عہدے داروں کی بھیڑ تو نظر آتی ہے لیکن مخلص کارکن نایاب ہوتے جا رہے ہیں
معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم بڑے قومی اور سماجی مقاصد کو بھول کر ذاتی مفادات اور معمولی رنجشوں جیسے زمینوں اور پلاٹوں کے جھگڑوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں میرا ماننا ہے کہ معاشرے کی تعمیرِ نو تب تک ممکن نہیں جب تک اساتذہ، ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد اپنی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر خلوصِ نیت سے ادا نہ کریں
ہمیں عہدوں کی نہیں بلکہ ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو خاموشی سے تبدیلی کی بنیاد رکھیں۔
ادب، صحافت اور سوشل میڈیا کا اثر اب ذہنوں کومثبت تبدیل کر رہا ہے ادب اور صحافت کسی بھی زندہ معاشرے کی روح ہوتے ہیں میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری تحریریں سچائی کا آئینہ دار ہوں جہاں خوشامد یا بے جا الزام تراشی کی کوئی جگہ نہ ہو
میرا پیغام ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ادبی سنگت جیسی تنظیموں کو سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر کام کرنا چاہیے تاکہ ایک غیر جانبدارانہ اور معیاری ادب تخلیق ہو سکے
میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج کے دور میں سچ کو برقرار رکھنا ایک کٹھن چیلنج بن چکا ہے، دوسری جانب سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون نے جہاں معلومات تک رسائی آسان بنائی ہے وہیں ہر شخص کو صحافی بنا کر پیشہ ورانہ صحافت کے معیار کو متاثر بھی کیا ہے
دور حاضر میں تعلیم اور ہنر سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں یہ نوجوانوں کے لیے ایک نیا راستہ ہے میں اکثر نوجوانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ ہمارا تعلیمی نظام انہیں کس سمت لے جا رہا ہے صرف میڈیکل جیسی مہنگی ڈگریوں پر کروڑوں روپے خرچ کرنا، جہاں روزگار کے مواقع بھی محدود ہوں، کوئی عقلمندی نہیں ہے
میرا مشورہ ہے کہ نوجوان فنی تعلیم کی طرف آئیں۔ الیکٹریکل کام، ہوٹل مینجمنٹ اور دیگر تکنیکی مہارتیں وہ ہنر ہیں جو آپ کو معاشی طور پر مستحکم کر سکتے ہیں یاد رکھیں ایک ہنر مند ہاتھ کبھی کسی کا دستِ نگر نہیں ہوتا
سندھ کے مستقبل کے حوالے سے میرا سب سے بڑا ڈر گلوبل وارمنگ اور پانی کا بحران ہے دریاؤں کے کناروں سے جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیاں ایک خاموش قاتل کی طرح ہماری دہلیز پر کھڑی ہیں
اگر حکومت اور عوام نے مل کر اس پر توجہ نہ دی تو ہماری آنے والی نسلیں پانی کی بوند بوند کو ترسیں گی،
آخر میں اپنے نوجوانوں سے یہی کہوں گا کہ جذباتی ہونے کے بجائے اپنی تعلیم، محنت اور قومی حقوق پر توجہ دیں
کتابیں پڑھیں، اپنے ماحول کی حفاظت کریں اور اپنی ثقافت سے جڑے رہیں آپ کی محنت اور سچائی ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے
تعارف : مصنف سینئر صحافی، کالم نگار، تجزیہ کار اور ادیب ہیں، جو سندھ کے سیاسی، سماجی اور عوامی مسائل پر بے باک اور مدلل انداز میں قلم اٹھانے کے لیے پہچانے جاتے ہیں، ان کی تحریروں میں تاریخی شعور، سماجی حساسیت اور عوامی نقطۂ نظر کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے، جس کے باعث ان کا شمار سندھ کے مؤثر اور معتبر قلم کاروں میں کیا جاتا ہے
