July 24, 2026

مہنگا پیٹرول محنت کش طبقہ کب تک قربانی دے گا؟

 مہنگا پیٹرول محنت کش طبقہ کب تک قربانی دے گا؟

تحریر( محمد سلیم ) پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی موڑ پر کھڑا ہے جہاں غریب اور متوسط طبقے کے لیے سانس لینا بھی دوبھر ہو چکا ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط ہیں تو دوسری طرف داخلی طور پر بدانتظامی اور اشرافیہ کی مراعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ حالیہ دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کیا جانے والا ہوشربا اضافہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، بلکہ وہ تمام تر معاشی بوجھ محنت کشوں کے کندھوں پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ انتہائی افسوسناک ہے۔ دنیا کے مہذب ممالک میں جب بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو حکومتیں اپنے اخراجات کم کر کے عوام کو سہولت فراہم کرتی ہیں، مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ پیٹرول کی قیمت براہِ راست عام آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھتے ہیں اور نتیجتاً اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں، جب عوام کو سکون کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں مہنگائی کے تازیانے مارے جا رہے ہیں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ عوام بجلی اور گیس کے بھاری بھرکم بل تو ادا کر رہے ہیں، لیکن یہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔ سحر و افطار کے اوقات میں سوئی گیس کی عدم فراہمی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ دوسری جانب ملازمت پیشہ افراد، جو پہلے ہی افراطِ زر کی چکی میں پس رہے ہیں، ان پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور جو برسرِ روزگار ہیں، وہ اپنی محنت کی پوری اجرت پانے سے قاصر ہیں۔ بے روزگاری میں یہ مسلسل اضافہ ایک بڑے سماجی بحران کی نشاندہی کر رہا ہے جسے نظر انداز کرنا ریاست کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے اکثر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ عالمی حالات یا علاقائی کشیدگی کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے۔ اگر واقعی کوئی قلت کا مسئلہ ہے تو اس کی شروعات اشرافیہ سے کیوں نہیں ہوتی؟ وزراء، مشیروں اور بیوروکریسی کو فراہم کیا جانے والا لاکھوں لیٹر مفت پیٹرول اور دیگر مراعات کیوں بند نہیں کی جاتیں؟۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ غریب آدمی اپنی سائیکل اور موٹر سائیکل کے لیے مہنگا پیٹرول خریدے اور حکمران طبقہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر مفت عیاشیاں کرے؟۔ قربانی کا یہ بوجھ صرف عوام کے کندھوں پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔

پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین حکومت سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا حالیہ اضافہ فوری واپس لیا جائے۔ عوام کو بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور صنعتی و معاشی پالیسیوں میں محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ عوام صرف ٹیکس دینے والی مشین نہیں ہیں؛ اگر ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو پھر اس کا خمیازہ پورے نظام کو بھگتنا پڑے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکمران اپنی آسائشیں قربان کریں اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp