May 31, 2026

پاکستان میں جبری مشقت کا ناسور

 پاکستان میں جبری مشقت کا ناسور

تحریر ( ضیاء الرحمان ) پاکستان میں انسانی حقوق اور مزدوروں کے تحفظ کے بلند بانگ دعووں کے باوجود جبری مشقت  کی صورتحال ایک سنگین المیے کی صورت اختیار کر چکی ہے ملکی معیشت کے اس سیاہ پہلو کو بے نقاب کیا ہے، جس کے مطابق پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں جبری مشقت کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ یہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی بحران ہے جو نسل در نسل غربت اور غلامی کے چکر میں پھنسے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔

جبری مشقت کے محرکات اور پھیلاؤ پاکستان میں جبری مشقت کی جڑیں گہری ہیں، جس کا سب سے بڑا مرکز زراعت، اینٹوں کے بھٹے اور کان کنی کے شعبے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو پیشہ وارانہ قرضوں یا پیشگی رقم کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے آجروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ کے زرعی علاقوں میں ہاریوں اور کسانوں کی حالتِ زار انسانی ضمیر پر ایک بوجھ ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنی محنت کا جائز صلہ پانے سے محروم ہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق سے بھی کوسوں دور ہیں۔

اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟ بین الاقوامی محنت کش تنظیم اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کے فراہم کردہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں جبری مشقت میں ملوث افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ افراطِ زر اور معاشی عدم استحکام نے غریب طبقے کو مزید کمزور کر دیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بااثر گروہ انہیں معمولی قرضوں کے عوض طویل عرصے کے لیے غلام بنا لیتے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو بچوں کی جبری مشقت ہے، جو اسکول جانے کے بجائے سخت حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔

قوانین کی موجودگی اور عملدرآمد کا فقدان اگرچہ پاکستان میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے ‘بانڈڈ لیبر سسٹم ایبولیشن ایکٹ’ جیسے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس کی بااثر طبقات کے ساتھ ملی بھگت اکثر ان قوانین کو غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔ مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک نچلی سطح پر مانیٹرنگ کا نظام بہتر نہیں بنایا جاتا اور قصورواروں کو عبرتناک سزائیں نہیں دی جاتیں، یہ ناسور ختم نہیں ہوگا۔

معاشی اثرات اور عالمی تشخص جبری مشقت نہ صرف سماجی ناانصافی ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کے برآمدی شعبے، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زراعت، کو اس وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر پاکستان بین الاقوامی لیبر کنونشنز (جیسے آئی ایل او کنونشن 29 اور 105) کی مکمل پاسداری نہیں کرتا، تو اسے عالمی منڈیوں میں جی ایس پی پلس جیسے مراعاتی درجوں سے محرومی کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

حرفِ آخر پاکستان کو اس جدید دور کی غلامی سے نکالنے کے لیے صرف بیانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت کے قانون پر سختی سے عمل کرائے اور سماجی تحفظ کے اداروں جیسے سیسی اور ای او بی آئی کے دائرہ کار کو غیر منظم شعبوں تک پھیلائے۔ جب تک ریاست اپنے کمزور ترین طبقے کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی، تب تک حقیقی معنوں میں ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp