اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
عالمی یومِ خواتین اور محنت کش خواتین
تحریر ( ایمن اکرم ) آج 8 مارچ دنیا بھر میں خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے عالمی یوم خواتین منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد ان کے حقوق، مساوات، اور سماجی و سیاسی کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے۔
یہ دن نہ صرف خواتین کی محنت کو سراہنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ مرد و خواتین کے درمیان برابری کے فروغ کا ذریعہ بھی ہے۔ تاریخی طور پر اس دن کی ابتدا بیسویں صدی کے اوائل میں مزدور تحریکوں کے پس منظر میں ہوئی، جب خواتین نے حقِ رائے دہی اور بہتر اجرت کے لیے آواز بلند کی۔ 1977 میں اقوام متحدہ کی جانب سے اسے باقاعدہ تسلیم کیے جانے کے بعد یہ ایک عالمی ایجنڈے کا حصہ بن گیا ہے۔
پاکستان کی ترقی میں محنت کش خواتین کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ کھیتوں میں سخت دھوپ میں کام کرنے والی ہاری خواتین ہوں یا فیکٹریوں میں مشینوں کے ساتھ مشقت کرنے والی مزدور، یہ خواتین ملکی معیشت کی اصل ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ مگر افسوس کہ ان کی خدمات کے بدلے انہیں وہ مقام اور تحفظ نہیں مل سکا جس کی وہ حقدار ہیں۔ آج بھی دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک عورت جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 2023 میں تقریباً 51,100 خواتین کو ان کے اپنوں ہی نے قتل کر دیا، یعنی دنیا میں اوسطاً ہر 10 منٹ میں ایک عورت قتل ہوتی ہے۔
پاکستان میں بھی استحصال کا یہ سلسلہ مکمل ختم نہیں ہو سکا۔ آج بھی خواتین کو کاروکاری اور ونی جیسی فرسودہ رسموں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق ملک میں ہر سال سینکڑوں خواتین غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ 2024 میں بھی ایسے سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔ اس کے علاوہ کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی، کم اجرت اور سماجی تحفظ کی کمی جیسے مسائل نے محنت کش خواتین کو دیوار سے لگا دیا ہے۔
تعلیم کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ ملک میں خواتین کی مجموعی خواندگی کی شرح 52.8 فیصد ہے، مگر بلوچستان میں یہ صرف 32.8 فیصد تک محدود ہے۔ تعلیمی سہولیات کی کمی اور معاشی مشکلات بچیوں کو اسکولوں سے دور رکھتی ہیں۔ رہی سہی کسر کم عمری کی شادی نکال دیتی ہے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں 18 فیصد لڑکیاں 18 سال سے پہلے بیاہ دی جاتی ہیں، جس سے ان کے خواب اور مستقبل ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت قوم ہم خواتین کے حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند کریں۔ محنت کش خواتین کے لیے کام کی جگہوں پر کم از کم اجرت کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور انہیں ہراسانی سے پاک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے قوانین کو مضبوط بنائے جو خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
جب تک ہماری خواتین، جو نسلِ نو کی معمار ہیں، بااعتماد اور محفوظ ماحول میں سانس نہیں لیں گی، معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں فرسودہ روایات کے بت توڑ کر اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو وہ مقام دینا ہوگا جو اسلام اور انسانیت نے انہیں عطا کیا ہے
تعارف: ایمن اکرم سینیر کالم نگار اور صحافی ہیں جو محنت کش خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ان کی تحریروں کا محور ورکنگ وومن کے سماجی و معاشی انصاف ہوتا ہے
