اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
ای او بی آئی کی گولڈن جوبلی: ملازمین کی عیش و عشرت یا پنشنرز کے استحصال کے 50 سال؟
تحریر ( حنظلہ عماد ) محکمہ ای او بی آئی اپنی گولڈن جوبلی منا رہا ہے۔ سرکاری ایوانوں میں جشن کی تیاریاں ہیں، چراغاں ہے اور افسرانِ بالا ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ گولڈن جوبلی واقعی اس محنت کش کی ہے جس نے اپنی زندگی کی تمام توانائیاں اس ملک کی صنعتوں کو سینچنے میں صرف کر دیں؟ یا پھر یہ جشن ان سفید پوش لٹیروں کا ہے جنہوں نے پچھلے پچاس سالوں سے غریب کی امانتوں پر عیش و عشرت کے مینار کھڑے کیے ہیں؟ اگر حقیقت کی عینک سے دیکھا جائے تو یہ جشن ای او بی آئی کے انشورڈ پرسنز اور پنشنرز کے استحصال، ظلم اور ناانصافی کے پچاس سالہ ریکارڈ کا ایک سیاہ باب ہے
اس ادارے کے پاس آج کھربوں روپے کی جائیدادیں اور اثاثے موجود ہیں، جن کا اصل وارث وہ مزدور ہے جو آج ریٹائرمنٹ کے بعد کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ان کھربوں کے اثاثوں کے باوجود ایک بوڑھے پنشنر کو ماہانہ صرف 11,500 روپے تھما دیے جاتے ہیں۔ میں ان جشن منانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ آج کی کمر توڑ مہنگائی میں کیا گیارہ ہزار پانچ سو روپے میں کسی بزرگ کی دوائی آتی ہے؟ کیا اس میں اس کے گھر کا راشن پورا ہوتا ہے؟ یا پھر وہ اس رقم سے اپنے تن کو ڈھانپنے کے لیے ایک جوڑا کپڑا سلوا سکتا ہے؟ یہ پنشن نہیں بلکہ اس مزدور کے ساتھ ایک ایسا سنگین مذاق ہے جس پر جتنا رویا جائے کم ہے
اس ادارے کی لوٹ مار کی داستانیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ “امانت کے امین” کہلانے والے ملازمین اور افسران کا حال یہ ہے کہ جب چاہتے ہیں اپنی تنخواہیں بڑھا لیتے ہیں، جب چاہتے ہیں مراعات اور سہولیات کی فہرست لمبی کر لیتے ہیں۔ لیکن جب کسی پنشنر کے حق کی بات آتی ہے، تو فائلوں کو پہیے لگ جاتے ہیں۔ کبھی فائل اس میز پر، کبھی اس میز پر۔ اور آخر میں ایک ہی گھسا پٹا بہانہ تراشا جاتا ہے کہ “صاحب! ابھی ایکچوریل رپورٹ نہیں آئی کیا یہ رپورٹیں صرف غریب کا راستہ روکنے کے لیے بنتی ہیں؟ کیا افسران کی عیاشیوں کے لیے کبھی کسی رپورٹ کا انتظار کیا گیا؟
ماضی میں اس ادارے کے فنڈز کو جس طرح نوچا گیا، اس میں صرف انتظامیہ ہی نہیں بلکہ کئی “بڑے نام” بھی شامل رہے۔ وہ وکلاء جو کروڑوں روپے فیسیں بٹور کر بعد میں اعلیٰ عدالتوں کے جج بنے، اور وہ شخصیات جنہوں نے اس فنڈ کے پیسے سے اپنے گھروں میں شادیاں رچائیں، وہ سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ منسٹری سے لے کر نچلے درجے تک، لوٹ کھسوٹ کا ایک ایسا جال بچھا ہے جہاں غریب کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ گولڈن جوبلی ان کی خوشی کا دن ہو سکتا ہے، مگر محنت کش کے لیے یہ اس کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ ہماری تو ظلم کی داستان کی گولڈن جوبلی ہے۔ میں یہ باتیں کرتا رہا ہوں اور کرتا رہوں گا، چاہے کسی کو اچھی لگیں یا نہ لگیں۔ جب تک اس ملک کے محنت کش کو اس کا جائز حق نہیں ملتا اور جب تک اس 11,500 روپے کے مذاق کو ختم کر کے ایک باوقار پنشن مقرر نہیں کی جاتی، تب تک ہر جشن محض ایک ملمع سازی ہے۔
