July 24, 2026

ای او بی آئی کی رنگین مکاریاں

 ای او بی آئی کی رنگین مکاریاں

تحریر ( قاضی تحسین احمد ہاشمی )  آج کل سوشل میڈیا پر ایک بڑی رنگین معلوماتی اور جذباتی قسم کی پوسٹ گردش کر رہی ہے جس کا عنوان دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ عنوان ہے  ای او بی آئی 2026 پاکستانی محنت کشوں کا مستقبل محفوظ بنا رہی ہے اس پوسٹ کو دیکھ کر پہلا خیال تو یہی آتا ہے کہ شاید لکھنے والے نے کسی اور سیارے کے محنت کشوں کی بات کی ہے یا پھر اسے پاکستان کی تلخ زمینی حقیقتوں کا ادراک ہی نہیں۔ میں لمبی چوڑی بحث میں نہیں پڑتا، بس اس پوسٹ لگانے والے “صاحبِ بصیرت” سے ایک چھوٹا سا سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ جناب! جس 11,500 روپے ماہانہ پنشن کی بنیاد پر آپ مستقبل محفوظ ہونے کے دعوے کر رہے ہیں، کیا اس رقم کی اوقات آپ کو معلوم ہے؟

آئیے اس رقم کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہیں۔ اس ملک میں جہاں مہنگائی کے جن نے ہر چیز کو نگل لیا ہے، کیا 11 ہزار 500 روپے میں ایک بوڑھا پنشنر اپنا ننگا جسم ڈھانپنے کے لیے ایک جوڑا کپڑا خرید سکتا ہے؟ چلیے فرض کر لیتے ہیں کہ اس نے کہیں سے سستا کپڑا ڈھونڈ لیا، تو کیا اس کی سلائی کے پیسے بھی اسی پنشن میں سے نکلیں گے؟ اور اگر سلائی بھی دے دی، تو کیا درزی کے پاس آنے جانے کا کرایہ بھی اسی رقم میں شامل ہے؟ یہ تو صرف تن ڈھانپنے کی بات ہے، ابھی پیٹ کی آگ، ادویات، بجلی کے بل اور چھت کے کرایوں کا ذکر تو چھڑا ہی نہیں۔ یہ پنشن نہیں، بلکہ ان سفید ریش بزرگوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے جنہوں نے اپنی جوانی اس ملک کی صنعتوں کو خون دے کر گزاری

سچ تو یہ ہے کہ اس پوسٹ کا ٹائٹل تبدیل کر کے یہ رکھنا چاہیے ای او بی آئی پنشنرز کے جمع شدہ فنڈز سے محکمہ ای او بی آئی کے افسران کا مستقبل محفوظ بنایا جا رہا ہے یہ کیسی مہم جوئی ہے کہ جس پنشنر نے اپنی پوری زندگی کا سرمایہ اس ادارے کے پاس امانت رکھا، اسے آج دو وقت کی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں اور دوسری طرف ادارے کے نام پر چمکتے دمکتے اشتہارات اور مستقبل محفوظ ہونے کی لوریاں سنائی جا رہی ہیں

میں حیران ہوں کہ اس طرح کی مکاریوں اور لفاظی سے کیا واقعی پنشنرز کا پیٹ بھر جائے گا؟ کیا ان کے گھر کے چولہے جل اٹھیں گے؟

اگر جھوٹ بولنے سے مستقبل محفوظ ہوتا ہے تو شوق سے بولیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ظلم ہے

 جی ہاں، یہ سراسر ظلم ہے اور اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ اس ظلم پر کسی کو شرم تک نہیں آتی۔ ای او بی آئی کے فنڈز دراصل ان مزدوروں کی امانت ہیں، ان پیسوں پر عیاشیاں کرنے والے اور جھوٹے اشتہارات چلانے والے یاد رکھیں کہ ان بزرگوں کی آہیں عرش ہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان ملمع سازیوں کو بند کیا جائے اور پنشنر کو اس کا وہ حق دیا جائے جس میں وہ کم از کم زندہ رہنے کی سکت پا سکے

تعارف : قاضی تحسین احمد ہاشمی باخبر کالم نگار ہیں، جو لیبر، سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، ان کی تحریروں میں حقائق، توازن نمایاں ہوتی ہے، وہ اپنے منفرد اسلوب اور مدلل اندازِ بیان کی وجہ سے قارئین میں خاص پہچان رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp