اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں تحقیقات کا شور
تحریر ( علی ملک، ایڈیٹر لیبر نیوز ) سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ، جو کبھی محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے ایک مؤثر ادارے کے طور پر جانا جاتا تھا، آج انتظامی کمزوریوں اور بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ حال ہی میں صوبائی وزیر محنت سعید غنی کی زیر صدارت اجلاس میں ماضی کے بعض متنازع منصوبوں کو کالعدم قرار دینے اور ان کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مزدور حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ اقدام واقعی شفاف احتساب کی طرف قدم ہے یا محض وقتی سیاسی بیان ہے
سندھ ورکرز ویلفئیر بورڈ بنیادی طور پر محنت کشوں کے لیے ہاؤسنگ، تعلیمی وظائف، طبی سہولیات اور مختلف فلاحی گرانٹس فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے اس ادارے کے بعض منصوبوں کے بارے میں یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ متعدد اسکیمیں کاغذی حد تک مکمل دکھائی گئیں، جبکہ عملی طور پر ان کے ثمرات مزدوروں تک نہیں پہنچ سکے
اگرچہ ماضی میں بھی تحقیقات اور انکوائری کمیٹیوں کے قیام کے اعلانات ہوتے رہے، مگر ان میں سے کئی تحقیقات منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ اعلان کو بھی احتیاط کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک تحقیقات شفاف، آزاد اور نتیجہ خیز نہیں ہوں گی، مزدوروں کا اعتماد بحال ہونا مشکل رہے گا
صوبائی وزیر محنت کا مؤقف ہے کہ مزدوروں کے حقوق پر کسی بھی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر ماضی میں کوئی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو ان کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مختلف کمیٹیوں کی تشکیل اور ریکارڈ کی چھان بین کا عمل شروع کرنے کا صرف اعلان کیا گیا ہے جبکہ صرف انکوائری کافی نہیں بلکہ اگر بدعنوانی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی ضروری ہے
سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے فنڈز دراصل محنت کشوں کی فلاح کے لیے مختص ہوتے ہیں، اس لیے ان میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی محنت کش طبقے کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ اگر ماضی کے منصوبوں میں بدعنوانی یا مالی بے ضابطگی ثابت ہو تو اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے
کسی بھی فلاحی ادارے کی ساکھ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے مالی اور انتظامی معاملات شفاف ہوں۔ اگر سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں واقعی اصلاحات کی ضرورت ہے تو اس کے لیے صرف تحقیقات نہیں بلکہ مؤثر ادارہ جاتی اصلاحات، نگرانی کا مضبوط نظام اور شفاف طریقہ کار بھی ضروری ہوگا۔
اس وقت سندھ کے محنت کش طبقے کی نظریں ان اعلانات پر نہیں بلکہ ان کے عملی نتائج پر مرکوز ہیں۔ اگر تحقیقات واقعی غیر جانبدار اور مؤثر ثابت ہوئیں تو یہ نہ صرف ادارے کی ساکھ بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ مزدوروں کے اعتماد کو بھی مضبوط کریں گی۔ بصورت دیگر، یہ خدشہ برقرار رہے گا کہ تحقیقات کا یہ شور بھی ماضی کی طرح وقت کے ساتھ مدھم ہو جائے گا
