اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
وائٹ ہاؤس کا لیبر حقوق پر شب خون، ٹریڈ یونینز کی رکنیت میں تاریخی اضافہ
Workers hold signs for the Construction and General Building Laborers’ Local 79 union and the Laborers’ Local 731 union as Kathy Hochul, governor of New York, not pictured, speaks at a construction site for the Gateway Program Hudson Tunnel Project in New York, US, on Tuesday, Feb. 17, 2026. The federal government won’t cover any cost overruns on a $16 billion Hudson River rail tunnel project for which the White House previously froze funding, President Donald Trump warned on Monday. Photographer: Michael Nagle/Bloomberg via Getty Images
واشنگٹن ( لیبر نیوز فارن ڈیسک ) امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لیبر قوانین کو سبوتاژ کرنے اور محنت کشوں کے حقوق سلب کرنے کے خدشات نے ملک بھر میں ایک نئی معاشی جنگ چھیڑ دی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یونین مخالف ممکنہ پالیسیوں اور ورکرز کی مراعات ختم کرنے کے منصوبوں نے امریکی ملازمین کو خوفزدہ کرنے کے بجائے متحد کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ٹریڈ یونینز کی رکنیت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ لاکھوں ورکرز اپنی ملازمتوں کے تحفظ اور اجتماعی سودے بازی کی طاقت برقرار رکھنے کے لیے تیزی سے یونینز کا حصہ بن رہے ہیں۔
لیبر ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی واپسی کے بعد محنت کشوں میں بیداری کی یہ لہر انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے کیونکہ یونین رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے جو دہائیوں کی جدوجہد کے بعد حاصل کیے گئے حقوق کو ختم کر دے۔
