May 31, 2026

محنت کش عورت اور نظام کا جبر

 محنت کش عورت اور نظام کا جبر

تحریر ( زہرہ خان ) محنت کش خواتین کی آوازیں دراصل اس فرسودہ نظام کے خلاف ایک کھلی چارج شیٹ ہیں جو عورت کو معیشت کا ستون تو کہتا ہے مگر اسے سماجی معاشی اور سیاسی محاذ پر بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کی جدوجہد محض حقوق کا مطالبہ نہیں بلکہ اس مردہ ضمیر معاشرے کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے

جہاں عورت کو کمزور ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ اس کے سستے وقت اور محنت کا استحصال جاری رکھا جا سکے زہرہ خان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ زیادتیاں اب ڈھکی چھپی نہیں رہیں مگر ریاست کی خاموشی اس مجرمانہ نظام میں برابر کی شریک ہے

کرونا وباء نے اس معاشرے کے مکروہ چہرے کو مزید واضح کر دیا جب مردوں کی بے روزگاری کا غصہ گھروں کے اندر خواتین پر تشدد کی صورت میں نکالا گیا یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اس بیمار ذہنیت کا عکاس ہے جو عورت کو ایک آسان ہدف سمجھتی ہے

 طبقاتی لڑائی میں مردوں کی شمولیت اس لیے ضروری ہے کہ یہ جنگ کسی ایک جنس کے خلاف نہیں بلکہ اس سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ ڈھانچے کے خلاف ہے جو محنت کش کا خون نچوڑ کر اپنی تجوریاں بھرتا ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جب کوئی عورت اپنے حق کے لیے زبان کھولتی ہے تو اس کے دلائل کا جواب دینے کے بجائے اس کے کردار پر بے بنیاد الزامات لگا کر اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے

ہمارا مطالبہ واضح ہے کہ جنس کی بنیاد پر استحصال بند کیا جائے ہوم بیسڈ ورکرز جو خاموشی سے صنعتوں کا پہیہ چلا رہی ہیں انہیں نہ تو قانونی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی سوشل سیکیورٹی کی سہولیات ریاست کا یہ دوہرا معیار کب تک چلے گا کہ کام عورت سے لیا جائے اور پہچان سے اسے محروم رکھا جائے

سیاسی محاذ پر خواتین کی نمائندگی محض ایک نمائشی عمل بن کر رہ گئی ہے جب تک محنت کش خواتین کو پالیسی سازی کے اصل مراکز تک رسائی نہیں دی جاتی تب تک ان کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے معاشی خود مختاری کے بغیر معاشرتی ترقی کا ہر خواب ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے

فیکٹریوں اور دفاتر میں ہراسانی سے پاک ماحول فراہم کرنا کوئی احسان نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے محنت کش عورتوں کی یہ تحریک اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں کیونکہ یہ ان کی بقا کی جنگ ہے ریاست کو اپنی خوابِ خرگوش سے جاگنا ہوگا اور ایسی قانون سازی کرنی ہوگی

جس کے ذریعے گھریلو محنت کش خواتین کو باقاعدہ لیبر فورس کا حصہ تسلیم کیا جائے جب تک محنت کش کو اس کا جائز مقام نہیں ملتا یہ طبقاتی کشمکش جاری رہے گی اور ہم ہر سطح پر اس
نظام کے خلاف لڑتے رہیں گے

تعارف : زہرہ خان پاکستان میں محنت کش خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی ایک نمایاں رہنما ہیں وہ ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کی جنرل سیکریٹری ہیں اور طویل عرصے سے غیر رسمی شعبے سے وابستہ خواتین کو منظم کرنے اور انہیں قانونی حقوق دلوانے کے لیے سرگرم عمل ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp