مزدور کا سرمایہ دارانہ استحصال
تحریر( یاسر ارشاد ) سرمایہ داری نظام میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور مزدوروں کی بڑھتی ہوئی بدحالی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم پیداواری عمل کا نتیجہ ہے کارل مارکس کے نظریات کی روشنی میں اس نظام کا سب سے بڑا خفیہ راز یہ ہے کہ ذرائع پیداوار فیکٹریاں زمین مشینیں پر قابض سرمایہ دار طبقہ کس طرح مزدور کی محنت سے کھربوں روپے کا منافع نچوڑتا ہے جبکہ محنت کش نسل در نسل نیم فاقہ کشی کا شکار رہتا ہے
سرمایہ دارانہ پیداوار کی بنیاد کموڈیٹی اشیا پر ہے جس میں دو طرح کی قدریں ہوتی ہیں قدرِ استعمال اور قدرِ تبادلہ مارکس کے مطابق کسی بھی شے کی حقیقی قدر کا تعین اس پر صرف ہونے والے لازمی سماجی وقتِ محن سے ہوتا ہے منڈی میں قیمتیں طلب و رسد کے تحت گرتی بڑھتی ہیں لیکن اوسطاً ہر شے اپنی حقیقی قدر پر ہی فروخت ہوتی ہے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سب کچھ اپنی اصل قیمت پر بکتا ہے تو سرمایہ دار کا منافع کہاں سے آتا ہے
سرمایہ دار فیکٹری میں مشینری اور خام مال جامد سرمایہ لگاتا ہے مارکس نے واضح کیا کہ مشینیں یا خام مال خود کوئی نئی قدر پیدا نہیں کرتے بلکہ اپنی موجودہ قدر کو نئی شے میں منتقل کر دیتے ہیں نئی دولت یا ویلیو صرف انسانی محنت زندہ سرمایہ سے تخلیق ہوتی ہے جب خام لوہا سٹیل میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کی بڑھی ہوئی قیمت دراصل مزدور کی اس محنت کا اظہار ہے جو اس عمل میں صرف ہوئی
سرمایہ دار مزدور سے اس کی محنت نہیں بلکہ قوتِ محنت کام کرنے کی صلاحیت خریدتا ہے مزدور کی اجرت کا تعین اس کی بقا کے لیے ضروری اخراجات روٹی کپڑا مکان سے ہوتا ہے فرض کریں ایک مزدور 6 گھنٹے کام کر کے اپنی اجرت کے برابر قیمت پیدا کر لیتا ہے لیکن چونکہ اس نے پورے دن مثلاً 12 گھنٹے کا معاہدہ کیا ہوتا ہے اس لیے باقی 6 گھنٹے وہ جو کام کرتا ہے اس کا اسے کوئی معاوضہ نہیں ملتا یہی غیر ادا شدہ اجرت مارکس کے نزدیک قدرِ زائد ہے جو سرمایہ دار کی تجوریوں میں منافع بن کر گرتی ہے
سرمایہ دار اس قدرِ زائد کو بڑھانے کے لیے مشینوں میں جدت لاتا ہے یا اوقاتِ کار بڑھاتا ہے تاکہ استحصال کی شرح تیز ہو سکے یہی وجہ ہے کہ سرمایہ داروں کی دولت پچھلی نسل سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے جبکہ مزدور اسی سطح پر رہتا ہے جہاں وہ بمشکل زندہ رہ سکے مارکس کے مطابق جب تک قوتِ محنت ایک کموڈیٹی کے طور پر بکتی رہے گی مزدور کی حالتِ زار نہیں بدلے گی یہ طبقاتی کشمکش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پیداواری عمل سے استحصال کا یہ بنیادی ڈھانچہ ختم نہیں کر دیا جاتا ہے
