اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
پنجاب لیبر کوڈ: خاموش قیادت اور بے چین مزدور
تحریر ( عمران علی کراچی ) پنجاب اسمبلی میں پنجاب لیبر کوڈ کی منظوری نے محنت کش طبقے کے لیے ایک سنگین موڑ پیدا کر دیا ہے۔ یہ محض ایک قانون سازی کا عمل نہیں، بلکہ مزدوروں کے حقوق، ان کے روزگار کے تحفظ، اجتماعی مفادات اور یونین آزادی سے جڑے حساس مسائل سے متعلق ہے۔ اس لحاظ سے یہ فیصلہ محنت کشوں کے مستقبل کے لیے براہِ راست اثرات رکھتا ہے۔ تاہم سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ملک کی بڑی قومی مزدور فیڈریشنز اس معاملے پر تماشائی بنی ہوئی ہیں اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ملک کی بڑی فیڈریشنز میں پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن، پاکستان ورکرز فیڈریشن، نیشنل لیبر فیڈریشن، آل پاکستان فیڈریشن آف لیبر، پاکستان سینٹرل مائن فیڈریشن، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، ہوم بیس وومن ورکر فیڈریشن اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایڈمنسٹریشن اینڈ ریسرچ (PILAR) شامل ہیں۔ یہ تنظیمیں برسوں سے مزدوروں کی نمائندگی اور حقوق کے لیے سرگرم رہنے کا دعویٰ کرتی رہی ہیں، لیکن جب پنجاب میں ایسا قانون منظور ہوا جو نہ صرف صوبے بلکہ مستقبل میں ملک بھر کے لیبر قوانین کی سمت متعین کر سکتا ہے، تو ان کی جانب سے نہ کوئی احتجاج ہوا، نہ کوئی ملک گیر کال، اور نہ ہی کوئی دوٹوک اعلامیہ سامنے آیا۔
یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ خاموشی کیوں ہے؟ کیا یہ محض غفلت ہے، یا حکومتی مفاہمت یا ذاتی مفادات کی وجہ سے ہے؟ یہ تمام فیڈریشنز سرکاری اداروں، بورڈز، کمیشنز اور مشاورتی اداروں میں نمائندگی رکھتی ہیں، اس لیے ان پر مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر نمائندگی صرف عہدوں تک محدود رہ جائے اور مزدوروں کے حقوق کے لیے اقدامات نہ کیے جائیں تو یہ نمائندگی مفاداتی شراکت داری میں بدل جاتی ہے۔
محنت کش طبقہ یہ پوچھ رہا ہے کہ جب قانون سازی ان کے مستقبل کا فیصلہ کر رہی تھی تو ان کی قیادت کہاں تھی؟ جب اسمبلی میں بل منظور ہو رہا تھا تو ملک گیر احتجاج کیوں نہیں ہوا؟ اور جب مزدور دشمن شقوں پر بحث ہونی چاہیے تھی تو خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ یہ خاموشی مزدور تحریک کو کمزور کرتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ قیادت کے لیے عہدے اہم ہیں، لیکن محنت کشوں کا اجتماعی مفاد شاید اہم نہیں۔
مزدور تحریک کی تاریخ گواہ ہے کہ حقوق منظم جدوجہد سے حاصل کیے جاتے ہیں، مفاہمت اور خاموشی سے نہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی تمام فیڈریشنز ذاتی یا تنظیمی اختلافات کو بالائے طاق رکھیں، ایک متحدہ قومی کنونشن بلائیں، مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور واضح اعلان کریں کہ محنت کش طبقے کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اگر قیادت خاموش رہتی ہے تو فیکٹریوں، کانوں، کھیتوں اور دفاتر میں کام کرنے والا مزدور خود اپنی آواز بلند کرے گا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب نچلا طبقہ بیدار ہوتا ہے تو ایوانوں کی دیواریں لرزنے لگتی ہیں۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ یا تو فیڈریشنز محنت کشوں کے ساتھ کھڑے ہوں یا پھر تاریخ کی عدالت میں جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
یہ لمحہ فیصلہ کن ہے، اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قیادت کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ آج کے فیصلے کل کے معاشرتی اور اقتصادی مستقبل کی بنیاد رکھیں گے، اس لیے ہر فیڈریشن کے لیے وقت کی اہمیت اور عوامی توقعات کو سمجھنا ناگزیر ہے.
تعارف ، عمران علی پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے موجودہ جنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ محنت کشوں کے حقوق، بہتر کام کے حالات، اور صنعتی شعبوں میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم رہتے ہیں
