پاکستان کے خاموش قاتل، عطائی ڈاکٹر
تحریر ( ڈاکٹر کامران اعوان، کراچی )
پاکستان، بالخصوص سندھ اور پنجاب میں عطائی ڈاکٹروں کا پھیلتا ہوا جال اب محض صحتِ عامہ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سنگین قومی انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جعلی ڈاکٹر، غیر محفوظ انجیکشن، غیر معیاری ادویات اور بغیر کسی تربیت کے کیے جانے والے علاج نے عوامی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش ہلاکت خیزی ہے جس کے اثرات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
سرکاری رپورٹس اور عالمی اداروں کے انکشافات کے مطابق سندھ میں 6 لاکھ سے زائد عطائی ڈاکٹر سرگرم ہیں جو بغیر کسی میڈیکل ڈگری یا قانونی لائسنس کے علاج فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 40 فیصد صرف کراچی میں موجود ہیں، یعنی لگ بھگ 2 لاکھ 40 ہزار غیر قانونی معالج ایک ہی شہر میں انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور دیگر خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ میں غیر محفوظ طبی عمل کو بنیادی سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
سندھ کے 29 اضلاع میں کیے گئے ایک سروے میں 4,315 نجی پریکٹشنرز کے معائنے کیے گئے، جن میں سے 70 فیصد بغیر کسی لائسنس کے کام کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق عطائی ڈاکٹر ایک ہی سرنج اور ڈرپ سیٹ متعدد مریضوں پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ طبی آلات کو محض گرم پانی سے دھو کر دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے باعث ایک مریض کی بیماری باآسانی دوسرے تک منتقل ہو جاتی ہے، اور کئی افراد زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں ایسے غلط علاج کے نتیجے میں ہونے والی اموات کا کوئی مستند ریکارڈ تک موجود نہیں۔
پنجاب کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔ رپورٹس کے مطابق صوبے میں مختلف ادوار میں تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار عطائی ڈاکٹر پریکٹس کرتے رہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے ہزاروں جعلی کلینکس بند کیے اور کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کیے، تاہم اس کے باوجود 2022 تک صوبے میں تقریباً 65 ہزار غیر قانونی علاج مراکز فعال رہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ کارروائیاں وقتی ثابت ہوئیں اور مسئلہ جڑ سے ختم نہ ہو سکا۔
جنوری 2019 سے جون 2020 کے دوران سندھ کے مختلف شہروں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد میں 3,063 صحت مراکز کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 70 فیصد غیر قانونی طور پر کام کر رہے تھے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان میں سے صرف 30 فیصد کو نوٹس جاری کیے گئے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری اور عدم سنجیدگی واضح ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی کمی، ڈاکٹر اور مریض کے غیر متوازن تناسب، کمزور سرکاری صحت نظام اور عوام میں طبی شعور کی کمی عطائیت کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جب سرکاری اسپتالوں میں سہولتیں ناکافی ہوں اور نجی علاج عوام کی پہنچ سے باہر ہو، تو لوگ سستے اور فوری علاج کے لالچ میں عطائی ڈاکٹروں کا رخ کرتے ہیں، جو سب سے بڑا خطرہ ہے۔
اگرچہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا قانون موجود ہے، مگر اس پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عطائی ڈاکٹر بار بار منظرِ عام پر آ جاتے ہیں۔ کرپشن اور ناقص نگرانی کے سبب سیل کیے گئے کلینکس دوبارہ کھل جاتے ہیں، اور انسانی جانوں سے کھیل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 5 لاکھ افراد غلط یا غیر مناسب علاج کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ تاہم پوسٹ مارٹم اور طبی جانچ کے کمزور نظام کے باعث ان اموات کی اصل وجہ اکثر سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بن پاتی۔
عطائی ڈاکٹروں کا مسئلہ دراصل پاکستان کے کمزور صحت نظام، بدعنوانی، عوامی لاعلمی اور قانون نافذ کرنے میں ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض کلینکس سیل کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ سخت قانونی کارروائی، شفاف نگرانی، کرپشن کے خاتمے، ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے اور وسیع عوامی آگاہی مہم پر توجہ دے۔
جب تک عوام یہ نہیں سمجھیں گے کہ عطائی ڈاکٹر کے پاس جانا سستا علاج نہیں بلکہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، تب تک یہ خاموش قاتل معاشرے کو یوں ہی نگلتا رہے گا۔
