اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
ایس آئی ایف سی کی حکمتِ عملی، کان کنی کے مزدوروں کے لیے نئے مواقع
اسلام آباد (اسامہ قذافی، نمائندہ لیبر نیوز ) ایس آئی ایف سی کی فعال سفارتی و معاشی حکمتِ عملی کے نتیجے میں پاکستان عالمی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے نئے دور میں داخل ہو گیا ہے،
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ملاقات میں معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور کان کنی میں مہارت رکھنے والی افرادی قوت کی تربیت پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ مزدوروں کے لیے روزگار اور ہنرمندی کے نئے مواقع پیدا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا عالمی سرمایہ کاری اور شراکت داری کے ذریعے تجارت، زراعت اور توانائی کے ساتھ ساتھ کان کنی کے شعبے کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی معدنیاتی کانفرنس پراسپییکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا 2026 میں شرکت کو کان کنی کے مزدوروں اور مقامی کمپنیوں کے لیے عالمی ماہرین سے رابطے کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔
کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے مزدوروں کے لیے محفوظ کام کے حالات، بہتر اجرت اور جدید آلات کی فراہمی کے امکانات بڑھنے کی توقع ہے۔
ایس آئی ایف سی غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے کان کنی کے مزدوروں کے معاشی استحکام اور قومی معیشت کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
