گل پلازہ سانحہ: جب آگ نے قیامت کو بھی شرما دیا
تحریر ( محمد سلیم ، مزدور رہنما کراچی )
گل پلازہ کا سانحہ محض آگ لگنے کا واقعہ نہیں تھا یہ انسانی ضمیر کے جلنے کا المیہ تھا۔ وہ آگ صرف دیواریں نہیں چاٹ رہی تھی، بلکہ زندہ انسانوں کو نگل رہی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسانی جان کی حرمت کو سرمایہ، فنڈنگ اور منافع کے نیچے روند دیا گیا۔
اب اسے حادثہ کہنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس آگ نے قیامت کو بھی نہیں دیکھا، کیونکہ قیامت میں انصاف ہوتا ہے، اور یہاں انسان بند دروازوں کے پیچھے، بے بس اور لاچار چھوڑ دیے گئے۔ فائر سیفٹی، ایمرجنسی اخراج اور قانونی تقاضے صرف فائلوں میں موجود تھے، عمارت میں نہیں
یہ سانحہ صرف عمارتوں کی ایسوسی ایشن کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ریاستی اداروں کی ناکامی اور بدعنوانی کا بھی کھلا ثبوت ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ، انوائرنمنٹ ڈیپارٹمنٹ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ، ریسکیو اور دیگر متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے
یہ ادارے یا تو خاموش رہے، یا ملی بھگت اور کرپشن کے ذریعے آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے۔ جب قانون نافذ کرنے والے خود قانون شکن بن جائیں تو سانحات جنم لیتے ہیں۔
یہ ہماری قومی بے حسی کی بھیانک تصویر ہے کہ جب انسان جل رہے تھے، ہم آج بھی تقسیم نسل، مذہب، سیاست اور مفاد میں۔ کسی نے انسانی جان کو مرکز نہیں بنایا، کسی نے مزدور کو انسان سمجھ کر نہیں دیکھا۔ ہم عمارتوں، مسجدوں، پلازوں اور علامتوں پر بحث کرتے رہے، مگر انسان کو بھول گئے۔ یاد رکھیے: آج اگر ہم خاموش ہیں تو کل باری ہماری ہو سکتی ہے۔
یہ بات دوٹوک انداز میں واضح رہنی چاہیے، یہ سانحہ فنڈز کی کمی سے نہیں ہوا،یہ آگ وسائل کی قلت کی وجہ سے نہیں لگی، یہ انسانی جان کی بے قدری، منافع کی ہوس، اور ریاستی غفلت و کرپشن کا نتیجہ ہے
ایک انسان کی جان کسی بھی منصوبے، کسی بھی سرمایہ کاری اور کسی بھی پلازہ سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ جب تک یہ اصول قانون اور عمل دونوں میں نافذ نہیں ہوتا، اور جب تک ذمہ دار محکموں کا حقیقی احتساب نہیں کیا جاتا، گل پلازہ جیسے سانحات ہمارے معاشرے کا مقدر بنے رہیں گے
عمارتوں کی ایسوسی ایشن کے ساتھ ساتھ لیبر ڈیپارٹمنٹ، انوائرنمنٹ ڈیپارٹمنٹ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، فائر بریگیڈ، ریسکیو اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کے خلاف فوری مجرمانہ کارروائی کی جائے
متاثرہ خاندانوں کو فوری، مکمل اور باعزت انصاف اور معاوضہ فراہم کیا جائے، تمام تجارتی و صنعتی عمارتوں میں فائر سیفٹی، لیبر اور ماحولیاتی قوانین پر بلاامتیاز اور شفاف عملدرآمد کرایا جائے، ملوث افسران اور انسپکٹرز کے خلاف کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں ، یہ وقت خاموشی کا نہیں، احتساب کا ہے
تعارف : محمد سلیم مزدور رہنما ہیں جو محنت کشوں کے حقوق، لیبر قوانین اور صنعتی مسائل پر سرگرم تحریری و عملی جدوجہد کے لیے جانے جاتے ہیں
