کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا خواب!
تحریر(محمد خان ابڑو)
شہریوں کی آنکھوں میں آنسو اور ذہنوں میں بے شمار سوالات چھوڑ دیے ہیں۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے نہ صرف قیمتی انسانی جانیں اور روزگار چھین لیے بلکہ اس پلازہ سے وابستہ سینکڑوں لوگوں کی یادیں بھی جلا کر راکھ کر دیں
ایک پہلو سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ آگ کراچی کی مجموعی انتظامی ناکامی، سیاسی بے حسی اور خطرناک مفاداتی سیاست کو بے نقاب کر گئی ہے، کیونکہ اس سانحے نے عمارت کے ساتھ ساتھ وہ پردہ بھی جلا دیا جس کے پیچھے برسوں سے نااہلی، غفلت اور منظم بدانتظامی چھپی ہوئی تھی
گل پلازہ کراچی کے پرانے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں سینکڑوں دکانداروں کا روزگار وابستہ تھا اور روزانہ ہزاروں افراد کا آنا جانا رہتا تھا۔ مگر کراچی میں ہمیشہ کی طرح یہاں بھی فائر سیفٹی کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ نہ ایمرجنسی اخراج کے مناسب
راستے تھے اور نہ جدید آگ بجھانے کا کوئی نظام موجود تھا۔
آگ لگنے کے بعد سامنے آنے والا منظر مزید دل دہلا دینے والا تھا۔ ریسکیو آپریشن بدانتظامی کا شکار رہا، کئی افراد آگ اور دھوئیں میں پھنسے رہے اور متعدد جانیں بچائی نہ جا سکیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس سانحے کے بعد لفظوں کے ذریعے ایک اور آگ لگانے کی کوشش کیوں کی گئی
یہ حقیقت ہے کہ گل پلازہ میں فائر سیفٹی کے بنیادی اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا تھا۔ غیرقانونی بجلی کنکشن، اوورلوڈنگ، تنگ راستے اور ایمرجنسی ایگزٹ کا نہ ہونا انتظامی غفلت کی واضح مثال ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ ادارے جو ان عمارتوں کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں، کیا وہ اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش نہیں کر رہے؟ شہر کے منتخب میئر نے بھی اس سانحے سے قبل کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے
کراچی میں فائر بریگیڈ کی خستہ حالت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پرانی گاڑیاں، کم عملہ اور ناکافی وسائل، یہ سب میئر کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، مگر عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ آگ کے بعد شہر میں ایک سنگین بحث نے جنم لیا کہ کیا گل پلازہ کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی؟
کراچی کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں قیمتی زمینوں پر قبضے کے لیے عمارتوں کو آگ لگا کر خالی کرایا گیا۔ شہریوں، دکانداروں اور سماجی حلقوں کا خیال ہے کہ گل پلازہ کا پلاٹ انتہائی قیمتی تھا اور قبضہ مافیا پہلے ہی اس پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ اگر یہ خدشہ درست ہے تو یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم جرم ہے، جس میں انسانی جانوں کی قربانی دی گئی
اس سانحے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس جگہ کا مستقبل کیا ہوگا؟ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ وہاں دوبارہ کوئی تجارتی یا رہائشی عمارت نہیں بننی چاہیے، کیونکہ اب یہ جگہ محض ایک پلاٹ نہیں رہی بلکہ شہداء کی آخری آرام گاہ بن چکی ہے۔ وہاں ایک یادگار تعمیر کی جانی چاہیے، جہاں شہداء کے نام درج ہوں اور فائر سیفٹی سے متعلق آگاہی مرکز قائم کیا جائے
بدقسمتی سے کراچی میں ہر بڑے سانحے کے بعد ایم کیو ایم کی سیاست ایک بار پھر اپنے پرانے، نفرت انگیز چہرے کے ساتھ سامنے آ جاتی ہے۔ گل پلازہ کے سانحے کے بعد بھی انسانی ہمدردی اور ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الزام تراشی، بیان بازی اور سندھ دشمن بیانیہ اختیار کیا گیا
مصطفیٰ کمال جیسے رہنما، جو خود کو شہری حقوق کا علمبردار کہتے ہیں، اس سانحے کو بھی اپنی پرانی ایجنڈا سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کبھی سندھ حکومت کو نشانہ بنایا گیا، کبھی اٹھارہویں ترمیم پر حملے کیے گئے اور کبھی کراچی کو سندھ سے الگ کر کے وفاق کے حوالے کرنے کے مطالبات سامنے آئے
حقیقت یہ ہے کہ کراچی سندھ سے الگ نہیں، کراچی سندھ کی تاریخ، ثقافت اور وجود کا حصہ ہے۔ سانحات کسی ایک قوم یا جماعت کا مسئلہ نہیں ہوتے بلکہ پورے شہر کا زخم ہوتے ہیں، مگر جب ان زخموں کو نفرت کی سیاست کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ آگ سے بھی زیادہ خطرناک عمل بن جاتا ہے
گل پلازہ کا سانحہ ایک الارم ہےانتظامیہ کے لیے، سیاستدانوں کے لیے اور پورے معاشرے کے لیے۔ اگر ذمہ داروں کو سزا نہ ملی تو ایسے سانحات بار بار ہوتے رہیں گے۔ سندھ ایک ہے، کراچی سندھ ہے، اور اسے سندھ سے الگ کرنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا
تعارف
مصنف سینئر صحافی، کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں، جو سندھ کے سیاسی، سماجی اور عوامی مسائل پر بے باک اور مدلل انداز میں قلم اٹھانے کے لیے پہچانے جاتے ہیں، ان کی تحریروں میں تاریخی شعور، سماجی حساسیت اور عوامی نقطۂ نظر کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے، جس کے باعث ان کا شمار سندھ کے مؤثر اور معتبر قلم کاروں میں کیا جاتا ہے
