May 28, 2026

ای او بی آئی پینشن پر سوالیہ نشان

 ای او بی آئی پینشن پر سوالیہ نشان


تحریر ( قاضی تحسین احمد ہاشمی )

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ای او بی آئی کے ایک مرحوم ملازم کی طلاق یافتہ بہن کے لیے پینشن جاری کرنے کا حکم دیا۔ خبر کے مطابق، وفاقی محتسب کے 26 ستمبر 2025 کے فیصلے کو صدر کے حکم کے بعد کلعدم قرار دے دیا گیا اور ساتھ ہی واجبات کی ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا

اس فیصلے پر ای او بی آئی پینشنرز میں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ پہلی بار کسی مرحوم کی طلاق یافتہ بہن کو پینشن فراہم کی گئی

لیکن خوشی کے ساتھ ساتھ پینشنرز میں سوالات اور تحفظات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ بہت سے پینشنرز کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے کم از کم پینشن کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں

جبکہ ای او بی آئی کے فنڈز اربوں روپے مالیت کے ہیں اور ہر ماہ ان پر منافع آتا ہے۔ پینشنرز کے مطابق بیوہ یا طلاق یافتہ بہن کے لیے سہولت تو دور، انہیں اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے کے لیے کافی پینشن نہیں دی جاتی ہے


یہ اقدام خوش آئند ہے، لیکن اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ای او بی آئی کے تمام مستحق پینشنرز کو ان کے حقوق بوقت فراہم کیے جائیں گے؟ یا صرف چند معاملات کو نمایاں کر کے عوامی تاثر بنایا جائے گا؟

حکومت اور ای او بی آئی انتظامیہ کے پاس فنڈز موجود ہیں، لیکن حقیقی پینشنرز اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں


پینشنرز کے حقوق کی فوری بحالی، بنیادی ضروریات کی کفالت، اور تمام فنڈز کے مستحق افراد کو مساوی اور بروقت فوائد فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

خوشی کے اس موقع پر بھی یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ای او بی آئی پینشنرز کے ساتھ طویل عرصے سے جاری ناانصافی اور لاپرواہی ختم کیے بغیر نظام میں حقیقی اصلاح ممکن نہیں

تعارف : قاضی تحسین احمد ہاشمی باخبر کالم نگار ہیں، جو لیبر، سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، ان کی تحریروں میں حقائق، توازن نمایاں ہوتی ہے، وہ اپنے منفرد اسلوب اور مدلل اندازِ بیان کی وجہ سے قارئین میں خاص پہچان رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp