پی ائی اے کی نجکاری اور ایک ہی بروکر کا بار بار سامنے آنا
تحریر (عارف روہیلہ)
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نجکاری کو عوام کے سامنے اصلاح، بچت اور بہتر انتظام کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اصل خدشہ یہ ہے کہ کہیں یہ بھی پاکستان اسٹیل ملز جیسی کہانی نہ بن جائے
وہاں 2006 میں سپریم کورٹ نے پورا عمل اس لیے روک دیا تھا کہ طریقہ شفاف نہیں تھا۔ قیمت کم لگائی گئی، قواعد توڑے گئے، اور بولی دینے والوں کی درست جانچ نہیں ہوئی۔ فیصلہ یہ تھا کہ قومی ادارہ بیچنا ہو بھی تو غیر منصفانہ طریقے سے نہیں بیچا جا سکتا
اسی کیس میں کنسورشیم کا حصہ بروکر عارف حبیب تھے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد معاملہ صرف نجکاری تک محدود نہیں رہا۔ سوال یہ اٹھا کہ جب ایک بڑے قومی ادارے کی نجکاری میں شفافیت پر اتنے بڑے اعتراض آئے، تو پھر یہی نام بعد میں دوسرے بڑے قومی ادارے، یعنی پی ائی اے کے معاملے میں دوبارہ کیسے سامنے آ رہا ہے
یہاں اصل مسئلہ یہی ہے۔ دو بڑی نجکاریاں۔ ایک ہی معروف بروکر۔ اور ہر بار یہ تاثر کہ فیصلے پہلے ہو جاتے ہیں اور قانون بعد میں راستہ تلاش کرتا ہے۔ اگر بار بار ایک ہی سرمایہ کاروں کا حلقہ آگے آئے، اور مقابلہ محدود رہے، تو عوام کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مقصد واقعی ادارہ بہتر کرنا ہے، نہ کہ مخصوص لوگوں کو فائدہ دینا
پی ائی اے کے معاملے میں بھی وہی خطرات موجود ہیں۔ اگر بولی، قیمت کے تعین اور پری کوالیفکیشن میں مکمل شفافیت نہ ہوئی، اور وہی پرانے چہرے بغیر سخت جانچ کے آگے آئے، تو نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو اسٹیل ملز کے ساتھ نکلا۔ ادارہ بظاہر نجی ہاتھوں میں جائے گا، لیکن عوام کا اعتماد، ریاست کی ساکھ اور قومی مفاد کمزور پڑ جائے گا
سوال سیدھا ہے۔ جب دو بڑے قومی اداروں کی نجکاری میں ایک ہی بروکر کا نام بار بار آئے، تو کیا یہ محض اتفاق ہے، یا نظام واقعی مخصوص لوگوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے؟
اگر پی ائی اے کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے تو پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ شفافیت ایک نعرہ نہیں، ایک شرط ہے۔ ورنہ نتیجہ یہی ہوگا کہ ادارے کم ہوں گے، سوالات بڑھتے جائیں گے، اور عوام سمجھے گی کہ پھر وہی کھیل کھیلا گیا ہے
