خوف کی سیاست اورموقع پرستی کی دلیلیں
تحریر ( شاداب مرتضی )
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران میں ملائی آمریت کے خاتمے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہاں امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت قائم ہو جائے گی۔ انہیں یہ بنیادی تاریخی حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ 1979 کے انقلاب میں ایرانی عوام نے امریکی سامراج اور اس کی پروردہ شاہ رضا پہلوی کی حکومت دونوں کے اقتدار کا بوریا بستر گول کر دیا تھا۔
اور یہ حقیقت بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکی سامراج اور اس کی کٹھ پتلی پہلوی حکومت کا خاتمہ ہونے کے باوجود ایرانی عوام کے استحصال کا خاتمہ نہیں ہوا کیونکہ پہلوی کی شاہی آمریت کی جگہ خمینی کی ملائی آمریت نے لے لی جو سامراج مخالفت کا اعلانیہ دم بھرنے کے باوجود ایران عوام کو اندرونی جبر و استحصال کی چکی میں پیستی رہی ہے۔
ضروری نہیں کہ ولایتِ فقیہہ کی ملائی آمریت کے خاتمے کے ذریعے ایرانی عوام محض امریکی ’’رجیم چینج‘‘ کے لیے راستہ ہموار کریں گے اور نہ یہ ضروری ہے کہ اس آمرانہ حکومت کا سامراج سے تحفظ ایرانی عوام کو جبر و استحصال سے نجات دلائے گا۔ یقینا یہ امکان ضرور موجود ہے کہ موجودہ ایرانی حکومت کا خاتمہ کسی قسم کی سامراجی کٹھ پتلی قوت کے اقتدار کا پیش خیمہ بن سکتا ہے
مگر محض اس ایک امکان کی بنیاد پر ایرانی عوامی بغاوت کے نتائج اور مستقبل کا تعین کرنا نہ صرف تنگ نظری ہے بلکہ معروضی طور پر یہ سامراج دشمنی کے نام پر ایرانی ملائیت اور بورژوا ریاست کی سیاسی عذر خواہی کے مترادف ہے۔
بیرونی طاقتوں کا خوف دلا کر اندرونی استحصال کو محفوظ کرنا، اندرونی استحصال کے خلاف عوامی جہد و مزاحمت کو بیرونی دشمن کی سازش کہہ کر دبانا اور کچلنا، بورژوا ریاستوں کی حکمران اشرافیہ کا پرانا حربہ ہے جس کے ذریعے جبر و استحصال کے خلاف عوامی تحریکوں کو اخلاقی اور سیاسی طور پر معذور و معطل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ پاکستان اور پڑوسی و دیگر ملکوں کی بورژوا ریاستوں کی حکمران اشرافیہ عوامی حقوق کی تحریکوں کو بیرونی دشمن کی سازش قرار دے کر سیاسی کارکنان کو جبر و تشدد کا نشانہ بناتی ہے، لیکن جونہی دشمن ممالک سے باہمی تعلقات میں تناؤ اور شدت پیدا ہوتی ہے تو حب الوطنی اور قومی دفاع کی آڑ میں ان ریاستوں کی حکومتیں اور ان کے ہم پیالہ نظریاتی و سیاسی گروہ اسی مظلوم عوام سے یکجہتی اور اتحاد کی اپیلیں کرنے لگتے ہیں جسے امن کے دور میں ان کی حکمران اشرافیہ مسلسل ظلم و جبر کا نشانہ بناتی ہے۔
مارکسزم نے اس حقیقت کو صاف طور پر واضح کیا کہ محنت کش عوام کا کوئی وطن نہیں۔ ہر ملک میں وہ اپنی اشرافیہ کے جبر و استحصال کا شکار ہیں، اور انہیں یہ باور کرایا کہ ان کے پاس کھونے کو سوائے اپنی زنجیروں کے، اپنے استحصالی حالات کے، کچھ اور نہیں۔ مگر دائیں بازو کی طرح، نام نہاد بائیں بازو کے بحض حلقے، ہمیں بتاتے ہیں کہ محنت کش عوام کے پاس کھونے کو ایک وطن ہے، جسے انہیں اپنی استحصالی اشرافیہ کے ساتھ مل کر بیرونی دشمن سے بچانا چاہیے۔
اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ وطن، جہاں ان کے لیے اپنی حکمران اشرافیہ کے جبر و استحصال کو سہنے کے سوا کچھ نہیں، ان سے چھن جائے گا اور وہ ان نعمتوں سے محروم ہو جائیں گے جو انہیں مبینہ طور پر میسر ہیں، جیسے کہ سماجی آزادیاں اور معاشی آسودگی سے بھرپور خوشحال زندگی۔ مگر کیا واقعی محنت کش عوام کو بورژوا ریاستوں میں اپنی حکمران اشرافیہ کی جانب سے یہ آزادیاں اور خوشحالی میسر ہے؟
اسے ڈرایا جاتا ہے کہ اگر اس نے بیرونی دشمن سے وطن کے دفاع میں اپنی استحصالی اشرافیہ کا ساتھ نہ دیا تو دشمن ملک پر قابض ہو جائے گا۔ اسے ان نام نہاد نعمتوں سے محروم کر دے گا اور اس کی زندگی کو جہنم بنا دے گا۔ مگر کیا اپنے وطن میں محنت کش عوام کی زندگی اپنی استحصالی اشرافیہ کے جبر و استحصال کے ہاتھوں پہلے ہی جہنم نہیں بنی ہوئی؟
چنانچہ سوال یہ ہے کہ محنت کش عوام کے پاس ایسا کیا ہے جسے کھونے کا اسے ڈر ہونا چاہیے، سوائے اپنی اشرافیہ کے ہاتھوں جبر و استحصال سہنے کے؟ اور اگر اس مقامی استحصال کی جگہ ایک دوسری قسم کا استحصال، یعنی بیرونی دشمن کا استحصال، لے لے تو پھر محنت کش عوام نے ایک قسم کے استحصال کی جگہ دوسری قسم کے استحصال کے سوا کیا کھویا اور کیا پایا؟
تو پھر بیرونی دشمن کے خوف سے محنت کش عوام کو ڈرانے اور اس کے ذریعے اسے اپنی استحصالی اشرافیہ کا سیاسی دم چھلہ بنانے پر مامور یہ نام نہاد ’’بایاں بازو‘‘ کون ہے؟
یہ بات صاف ظاہر ہے کہ امن کے دور میں بورژوا ریاستوں میں محنت کش عوام اپنی اشرافیہ کے ہاتھوں ظلم و جبر کا شکار ہوتی ہے (اور صرف امن کے دور میں ہی نہیں بلکہ جنگ کے دور میں بھی، مثلا لازمی فوجی بھرتی اور جنگی ضروریات پوری کرنے کے لیے فیکٹریوں میں طویل اوقات کار) اور اس کے پاس کھونے کو سوائے ان استحصالی زنجیروں کے اور کچھ نہیں۔ ان کے پاس کوئی ایسی ملکیت نہیں جس پر انہیں بیرونی دشمن کے قبضے کا خوف ہو، جس کے چھن جانے کا انہیں ڈر ہو
یہاں یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بیرونی دشمن کا یہ خوف درحقیقت محنت کش عوام کا نہیں بلکہ پیٹی بورژوا طبقے کا خوف ہے، یعنی چھوٹی نجی ملکیت رکھنے والے طبقے کا خوف۔ یہی خوف اسے بڑی بورژوازی اور حکمران اشرافیہ سے ملکیت کے تحفظ کے رشتے میں جوڑ دیتا ہے۔
جس طرح بڑی اشرافیہ بیرونی دشمن سے اپنی ملکیت بچانے کے لیے وطن کے دفاع، قومی سلامتی اور حب الوطنی کے جھوٹے نعروں کی آڑ میں محنت کش عوام کو دشمن کا خوف دلا کر اپنی دفاعی ڈھال بنانا چاہتی ہے، اسی طرح چھوٹی ملکیت رکھنے والے نام نہاد انقلابی گروہ ’’بائیں بازو‘‘ کی شناخت اپنا کر محنت کش عوام کو انہی نعروں کے تحت اپنی چھوٹی ملکیت کے تحفظ کے لیے متحرک کرنا چاہتے ہیں۔
یہی موقع پرست منطق اس وقت بھی سامنے آتی ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایران اور وینزویلا جیسے ممالک میں محنت کش عوام کے بدتر ہوتے ہوئے حالاتِ زندگی کی اصل وجہ سامراجی پابندیاں ہیں۔ وہاں کی حکومتیں اپنے عوام کے حالات بہتر کرنا چاہتی ہیں مگر بیرونی دباؤ کے باعث ایسا نہیں کر پاتیں۔
مارکسزم۔لیننزم کے معیار پر یہ دلیل سرے سے قائم ہی نہیں رہتی۔ یہ سوال کو شعوری طور پر غلط جگہ سے اٹھاتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سامراجی پابندیاں موجود ہیں یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان پابندیوں کا معاشی بوجھ کن طبقات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور کن طبقات کو اس بحران سے محفوظ رکھا جا رہا ہے۔
بورژوا ریاستیں سامراجی پابندیوں کا بوجھ محنت کش عوام پر ڈالتی ہیں جبکہ سوشلسٹ ریاست اسے اشرافیہ کی جانب منتقل کرتی ہے اور محنت کش عوام کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔
اگر سامراجی پابندیاں واقعی عوامی بدحالی کی واحد یا فیصلہ کن وجہ ہوتیں تو ان ممالک میں اشرافیہ اور بالائی طبقات کے معیارِ زندگی میں بھی اسی شدت سے گراوٹ نظر آنی چاہیے تھی جس کا سامنا وہاں محنت کش عوام کو ہے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران جہاں غربت کی شرح بڑھ کر چوالیس فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے اور نچلے پچاس فیصد گھرانوں کی حقیقی آمدنی مسلسل سکڑتی گئی ہے،
وہیں بالائی دس فیصد گھرانے قومی آمدنی کے چالیس فیصد سے زائد حصے پر قابض ہیں، اور بالائی ایک فیصد گھرانوں کی دولت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی نے محنت کش طبقے کی اجرتوں کی قوتِ خرید کو بری طرح کم کر دیا ہے، مگر بڑے تاجروں، جاگیرداروں، مالیاتی اشرافیہ اور ریاستی بیوروکریسی کے طرزِ زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔
یہ محض معاشی بحران نہیں بلکہ بحران کی طبقاتی تقسیم ہے جس میں اس کا بوجھ محنت کش عوام پر ڈال دیا گیا ہے تاکہ اشرافیہ کے معاشی مفادات کو ضرب نہ لگے۔
ایران میں بھی یہی تصویر اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ سامراجی پابندیوں کے سخت ترین دور میں افراطِ زر چالیس فیصد سے بڑھ گئی، کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ آئی اور محنت کش عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی تک سے محروم ہوتے گئے، مگر اسی عرصے میں بالائی دس فیصد آبادی قومی آمدنی کے نصف سے زیادہ حصے پر قابض رہی۔ پاسدارانِ انقلاب سے جڑی معاشی اشرافیہ، بڑے تجارتی گروہ اور ریاستی بیوروکریسی نے بلیک مارکیٹ، اجارہ داریوں اور کرنسی کی سٹے بازی کے ذریعے ان بحرانی حالات کو اپنے لیے مزید منافع میں تبدیل کیا۔
اگر ولایت فقیہہ کی نام نہاد سامراج مخالف ریاست واقعی عوامی ہوتی تو قلت اور پابندیوں کی صورت میں سب سے پہلے اشرافیہ کی مراعات اور دولت کے ارتکاز پر ضرب لگائی جاتی، مگر وہاں بحران کا پورا بوجھ محنت کش عوام پر منتقل کر دیا گیا۔
وینزویلا میں یہ تضاد اور بھی بے لباس ہو کر سامنے آتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں جہاں محنت کش عوام کی اکثریت غربت اور شدید غربت میں دھکیل دی گئی، وہیں ریاستی و سیاسی اشرافیہ اور تیل سے جڑی نئی قومی بورژوازی نے ڈالرائزیشن، درآمدی اجارہ داریوں اور کرپٹ نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے معیارِ زندگی کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ کئی صورتوں میں بہتر بھی کیا۔
یہاں بھی امیر ترین گھرانوں کی آمدنی غریب ترین گھرانوں سے درجنوں گنا زیادہ رہی۔ اگر مسئلہ محض سامراجی پابندیاں ہوتیں تو یہ طبقاتی تفریق اس شدت سے برقرار نہ رہتی۔
لہٰذا سامراجی پابندیوں کو عوامی بدحالی کی واحد وجہ قرار دینا دراصل بورژوا ریاستوں کی حکمران اشرافیہ کو بری الذمہ قرار دینے کا ایک نظریاتی حربہ ہے۔ مارکسزم۔لیننزم یہ واضح کرتا ہے کہ سامراجی پابندیاں بذاتِ خود کسی سماج کو تباہ نہیں کرتیں، بلکہ وہ صرف اس بات کو بے نقاب کرتی ہیں کہ اقتدار کن طبقات کے ہاتھ میں ہے۔
ایک مزدور ریاست پابندیوں اور ناکہ بندی کے حالات میں بھی بحران کا بوجھ اشرافیہ پر منتقل کرتی ہے، جبکہ ایک بورژوا ریاست انہی پابندیوں کو بہانہ بنا کر محنت کش عوام کا استحصال تیز کر دیتی ہے۔
یہ سوچ کہ مقامی استحصالی اشرافیہ اور سامراج کے درمیان تضاد میں محنت کش عوام کے پاس یا تو اپنی اشرافیہ کا اتحادی بننے یا سامراج کے سامنے سرنڈر کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، دراصل ایک شکست خوردہ اور باطل ذہنیت کی عکاس ہے۔ یہ ذہنیت اس بنیادی حقیقت سے انکار کرتی ہے کہ محنت کش عوام بیک وقت اپنی مقامی حکمران اشرافیہ اور سامراج دونوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مارکسزم۔لیننزم کسی ایک استحصالی قوت کے دفاع کی نہیں بلکہ تمام استحصال کے خاتمے کی سیاست ہے، اور انقلابی سیاست کا فریضہ یہ نہیں کہ بیرونی دشمن کا خوف دلا کر محنت کش عوام کو اپنی استحصالی اشرافیہ کے اقتدار کے تحفظ کے لیے قربانی کا بکرا بنایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ انہیں اپنے مفادات پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور طبقاتی جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے—
ایسی جدوجہد جو بیک وقت سامراج اور مقامی حکمران اشرافیہ دونوں کے خلاف ہو۔
یہ تصور درحقیقت محنت کش عوام کی اس صلاحیت اور اس تاریخی ضرورت سے انکار پر مبنی ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے اپنی آزاد اور خودمختار جدوجہد منظم کر سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ ایک تنگ نظر اور شکست خوردہ سوچ ہے۔ اس ذہنیت کے حامل افراد انقلابی فکر اور تحریک سے وابستگی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
وہ اس بنیادی یقین سے ہی محروم ہیں کہ کسی ملک کے محنت کش عوام اندرونی اور بیرونی، دونوں طرح کے استحصال کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس طرزِ فکر میں عوام محض ایک سیاسی کٹھ پتلی یا ریوڑ کی صورت میں نظر آتے ہیں، جنہیں یا تو اپنی استحصالی حکمران اشرافیہ کے اقتدار کو بچانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، یا پھر سامراجی مفادات کے تحت اس کے خلاف۔ اس سوچ میں عوام اپنی تقدیر خود لکھنے کی اہلیت سے محروم دکھائی دیتے ہیں اور اپنے مفادات کے لیے اپنی قوتِ بازو پر بھروسہ کرنے کے قابل نہیں سمجھے جاتے۔
اس قسم کی سوچ کا مارکسزم۔لیننزم جیسی انقلابی فکر و تحریک سے کوئی تعلق نہیں، جو محنت کش عوام کی آزاد اور خودمختار جدوجہد کو ہی تاریخ کی اصل محرک قوت قرار دیتی ہے۔ مارکسزم۔لیننزم اس یقین پر قائم ہے کہ محنت کش عوام نہ صرف تمام استحصال کے خاتمے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ سماج کی انقلابی تبدیلی کی واحد حقیقی قوت بھی وہی ہیں۔ انقلابی سیاست کا فریضہ یہ نہیں کہ سامراج کا، بیرونی دشمن کا، خوف دلا کر محنت کش عوام کو اپنی استحصالی حکمران اشرافیہ کے اقتدار کے تحفظ کے لیے سیاسی قربانی کا بکرا بنایا جائے،
بلکہ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ انہیں ان کے اپنے مفادات پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے—ایسی جدوجہد جو بیک وقت ان کی مقامی استحصالی حکمران اشرافیہ اور سامراج دونوں کے خلاف ہو۔
اس سوچ کے حامی لوگ، بشمول بائیں بازو کے لوگ، یہ دلیل دیتے ہیں کہ عوامی تحریک اور سیاسی نظم و شعور کی کمی، کمزوری یا غیرموجودگی کی وجہ سے اس صورتحال میں کہ جب ملک کی استحصالی حکمران اشرافیہ اور سامراج کے درمیان تضاد شدت اختیار کر جائے اور اس بات کا خطرہ پیدا ہو جائے کہ یہ تضاد جنگ کی شکل اختیار کر لے گا تب یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ محنت کش عوام سامراج کے مقابلے میں اپنی استحصالی حکمران اشرافیہ کا ساتھ دیں تاکہ ملک کو سامراجی غلبے اور تسلط سے محفوظ رکھا جا سکے
کیونکہ سامراجی غلبے اور استحصال کے مقابلے میں مقامی حکمران اشرافیہ کا غلبہ اور استحصال “چھوٹی برائی” ہے اور چونکہ عوام اپنی سیاسی ناتوانی کے باعث اپنی استحصالی اشرافیہ کے خلاف جدوجہد کرنے کے قابل نہیں ہیں لہذا اس صورتحال میں انہیں اس چھوٹی برائی پر اکتفا کرنا چاہیے، اسے قبول کرنا چاہیے اور اس کا تحفظ کرنا چاہیے۔
تاہم، سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عوامی تحریک و تنظیم اس قدر کمزور یا ناپید ہے کہ وہ خود اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی تو پھر وہ سامراج جیسی بین الاقوامی طاقت کے خلاف کس طرح کھڑی ہو سکے گی اور اپنی انتہائی ناتواں حالت کے باعث اپنی استحصالی اشرافیہ کو سامراج سے دفاع کے لیے کیا کمک یا مدد فراہم کر پائے گی؟
کیا عوام سے یہ مطالبہ قطعی غیر حقیقی نہیں کہ ایسی حالت میں جب کہ وہ اپنے حقوق و مفادات کی جدوجہد کرنے کے قابل نہیں وہ عالمی طاقتوں کے خلاف جہد و مزاحمت کرے اور اپنی استحصالی اشرافیہ کے تحفظ کا دفاعی حصار بنے؟ اور اگر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عوامی تحریک کمزور و ناتواں حالت میں بھی “سامراج مخالف جدوجہد” کا یہ عظیم بوجھ اٹھانے کے قابل ہو سکتی ہے تو پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ اس حالت میں اسے خود اپنے حقوق و مفادات کی جدوجہد کرنے کا اہل نہیں سمجھا جا سکتا؟
کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جدوجہد کے لیے عوام کی ناتواں یا ناپید صلاحیت کی اس حالت سے دو قطعی متضاد نتیجے نکالے جا رہے ہیں اور حیرت انگیز طور پر اس بات کو تو عین ممکن سمجھا جا رہا ہے کہ اس قدر کمزور حالت میں عوام سامراج جیسی عالمی طاقت کا مقابلہ تو کر سکتے ہیں لیکن خود اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے کے قابل نہیں۔
کیا یہ صاف ظاہر نہیں ہے کہ یہ ایک موقع پرست دلیل ہے جسے اس لیے گھڑا گیا ہے تاکہ محنت کش عوام کو اپنے حقوق کے لیے خودمختار جدوجہد کرنے کی صلاحیت پر یقین سے محروم کر کے، اس فرض کو نبھانے کی ذمہ داری سے خود کو عہدا برا کر کے، اور بیرونی دشمن کا خوف دلا کر، اسے مقامی استحصالی حکمران اشرافیہ کا سیاسی دم چھلہ بنایا جائے؟
اسے ایک ایسی لڑائی میں دھکیلا جائے جس کا اسے کوئی فائدہ نہیں اور جو صرف ظلم، جبر اور استحصال کی مختلف شکلوں کی لڑائی ہے جس میں بس اتنا طے ہونا ہے کہ محنت کش عوام کے استحصال کے حق پر کس کا قبضہ رہے گا، مقامی اشرافیہ کا یا بیرونی اشرافیہ کا؟
یہ واضح ہے کہ محنت کش عوام کے استحصال کا خاتمہ نہ صرف بیرونی سامراج بلکہ مقامی حکمران اشرافیہ دونوں کے خلاف بیک وقت جدوجہد کے ذریعے ممکن ہے۔
عوام کو بیرونی دشمن کے خوف تلے مقامی استحصالی حکمران طبقوں کا سیاسی اتحادی بنانے پر مبنی یہ موقف جب “بائیں بازو” کی طرف سے آتا ہے تو یہ موقع پرست اور شکست خوردہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ حقیقی انقلابی سیاست کا نصب العین یہ ہے کہ محنت کش عوام کو اپنے مفادات کے مطابق آزاد، خودمختار اور طبقاتی جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے،
جو بیک وقت داخلی اور خارجی استحصالی قوتوں کے خلاف ہو۔ صرف یہی جدوجہد سماج کی انقلابی تبدیلی اور تمام استحصال کے خاتمے کا واحد حقیقی ذریعہ ہے۔
