لندن میں ڈاکٹرز کی یونین کی ہڑتال، حکومت مذاکرات کے لیے تیار
لندن (نمائندہ شمائلہ عمر ۔ لیبر نیوز ویب ڈیسک ) لندن میں برطانوی میڈیکل ایسوسی ایشن رہائشی ڈاکٹروں کی یونین نے حکومت کی ناقص پیشکش کے خلاف ہڑتال آج پانچویں روز بھی جاری ہے ڈاکٹرز یونین کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال تنخواہوں کی بحالی، بہتر کام کے حالات اور روزگار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے
انگلینڈ کے ڈاکٹروں نے حکومت کی ناقص پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ وہ 17 سے 22 دسمبر تک کام چھوڑیں گے۔ اس اقدام کا مقصد تنخواہوں کی حقیقی قدر بحال کرنا، روزگار کے مواقع بڑھانا، اوربہتر کام کے حالات حاصل کرنا ہے، جو سالوں سے تیزی سے خراب ہو رہے ہیں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہیں 2008 کے مقابلے میں حقیقی طور پر بہت کم ہو گئی ہیں، جبکہ مریضوں کی دیکھ بھال اور فلو کے موسم نے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ وہ مناسب معاوضہ اور مستقبل کے تحفظ کے لیے لڑ رہے ہیں تاکہ بہتر خدمات فراہم کر سکیں
برطانوی حکومت نے ڈاکٹرز یونین کی ہڑتال پر سخت موقف اپنایا ہے وزیراعظم کیر اسٹارمر اور وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ اور نے ہڑتال کو غیر مناسب قرار دیا جبکہ وزیر صحت نے اسے اخلاقی طور پر قابل مذمت کہا ہے تاہم حکومت نے مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھا اور نئے سال میں ڈاکٹرز یونین کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا تاکہ مزید ہڑتالوں سے بچا جا سکے یونین رہنماؤں نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ گفت و شنید جاری رکھنے اور منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں
