پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
آئی ایل او نے پاکستانی مزدوروں کے لیئے ضابطہ کار جاری کردیا
اسلام اباد : ( نوید احمد سے ) عالمی ادارہ محنت آئی ایل او اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے تعمیراتی شعبے میں پیشہ وارانہ تحفظ و صحت یقینی بنانے کے لیے ضابطہ کار ترتیب دینے کا معاہدہ کیا ہے جس سے اس صنعت میں کام کرنے والے محنت کشوں کو پہلی مرتبہ بہتر حالات کار میسر آنے کی امید ہے
اس اقدام کی بدولت تعمیراتی صنعت میں پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت کی صورتحال کو ‘آئی ایل او’ کے طے کردہ معیارات کے مطابق بنانے میں مدد ملے گی۔ اس طرح محنت کشوں کو محفوظ و صحت مند ماحول میں کام کے مواقع میسر آئیں گے اور وہ پیشہ وارانہ امور کے دوران حادثات کی صورت میں مفت علاج معالجے کی سہولت بھی حاصل کر سکیں گے
‘آئی ایل او’ کے مطابق، افرادی قوت کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے 10 بڑے ممالک میں ہوتا ہے جہاں کام کے دوران سب سے زیادہ حادثات زراعت کے بعد تعمیرات کے شعبے میں ہوتے ہیں۔ پیشہ وارانہ تحفظ و صحت کے ضابطہ کار کی موجودگی اور نفاذ سے ان حادثات پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
آئی ایل او۔پاکستان کی سینئر پروگرام آفیسر رابعہ رزاق نے بتایا ہے کہ ضابطہ کار کو رواں سال کے آخر تک حتمی شکل دے دی جائے گی اور اس کے نفاذ سے تعمیراتی شعبے میں ہونے والے حادثات میں نمایاں کمی لانے کے ساتھ محنت کشوں کی استعداد کار بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
اس ضابطہ کار کا ایک مقصد پائیدار ترقی کے تناظر میں تعمیراتی شعبے میں پیشہ وارانہ تحفظ و صحت یقینی بنانے کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے ذمہ داروں کو عملی رہنمائی مہیا کرنا ہے۔
ضابطہ کار کی موجودگی میں تعمیراتی منصوبوں کو پیشہ وارانہ تحفظ و صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دینا اور ان پر موثر عملدرآمد کرنا آسان ہو گا۔ علاوہ ازیں، ضابطہ کار حکومت، آجروں، محنت کشوں اور ان کی تنظیموں کے مابین تعمیراتی شعبے سے متعلق ‘آئی ایل او’ کے اصولوں پر عملدرآمد کے لیے بہتر مشاورت اور تعاون میں بھی معاون ہو گا۔
کام کے دوران حفاظتی سامان کی غیرموجودگی میں تعمیراتی کام کرنے والوں کو چوٹیں لگنے اور بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
ساجد حسین صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تعمیراتی مزدور کی حیثیت سے اینٹیں، ریت اور سیمنٹ ڈھونے کا کام کرتے ہیں۔ اس دوران انہیں بھاری بوجھ سر یا کندھوں پر اٹھا کر سیڑھیاں چڑھنا ہوتی ہیں۔ کئی مرتبہ کام کے دوران توازن بگڑنے یا پاؤں پھسلنے کے باعث وہ گر کر زخمی بھی ہوئے ہیں
ان کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کمپنیوں یا ٹھیکیداروں کی جانب سے انہیں کبھی کوئی حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی مزدور حفاظتی آلات کے بغیر کام کرنے سے انکار کرے تو بہت سے دیگر اس کی جگہ لینے کو تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آجروں کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ حفاظتی سہولیات مہیا نہ کرنے کی صورت میں انہیں مزدور نہیں ملیں گے
پاکستان کی تعمیراتی صنعت میں مزدوروں کے ساتھ کام کا معاہدہ کرنے کا بھی کوئی رواج نہیں ہے۔ اسی لیے کام کے دوران کسی نقصان کی صورت میں محنت کش کو نہ تو کوئی معاوضہ ملتا ہے اور نہ وہ اس کے لیے کوئی قانونی کارروائی کر سکتا ہے
ساجد کی طرح ملک بھر میں لاکھوں محنت کش روزانہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر تعمیراتی کام کرتے ہیں۔ مناسب حفاظتی انتظامات کی غیرموجودگی میں انہیں ہاتھ، پاؤں اور دیگر جسمانی اعضا پر چوٹیں لگنے، بینائی متاثر ہونے، سماعت کے مسائل، بازوؤں اور ہاتھوں میں کپکپاہٹ، ننگے ہاتھوں سے خطرناک کیمیائی مواد اٹھانے کے باعث جلدی مسائل، مضرِ صحت فائبر اور زہریلی گیسوں سے سانس کے امراض اور کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ رہتا ہے
‘آئی ایل او’ کے طے کردہ حفاظتی معیارات کے تحت تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں کو چوٹوں سے بچانے والی جیکٹ اور ہیلمٹ، ہاتھوں کو محفوظ بنانے والے مضبوط دستانوں، آنکھوں کی حفاظت کے لیے مخصوص چشموں، کانوں کی حفاظت کے لیے ان کو ڈھکنے والے مخصوص ائیر مف، پاؤں کے لیے مخصوص و مضبوط جوتوں اور بلندی پر کام کے لیے بیلٹ اور رسیوں سے لیس ہونا ضروری ہے۔ تاہم پاکستان میں صنعتی شعبے کے محنت کشوں کے پاس یہ چیزیں شاذ ہی دکھائی دیتی ہیں
بڑے تعمیراتی منصوبوں میں کام کے دوران حادثات کی شرح دیگر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ کیپیٹل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کی ایک تحقیق کے مطابق پیشہ وارانہ تحفظ اور صحت کے ضوابط کی عدم موجودگی تعمیراتی شعبے میں 74 فیصد حادثات کا بنیادی سبب ہے
رابعہ رزاق کے مطابق اس ضابطہ کار کے نفاذ سے تعمیراتی صنعت سے وابستہ ملازمین/محنت کشوں کو بہتر جسمانی تحفظ حاصل ہو گا۔ انہیں آجروں کی جانب سے کام کی نوعیت کے اعتبار سے معیاری حفاظتی لباس اور سازوسامان مہیا کیا جائے گا یا اس کے حصول میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ کام کے دوران چوٹ لگنے یا پیشہ وارانہ وجوہات کی بنا پر کوئی بیماری لاحق ہونے کی صورت میں محنت کش کو طے شدہ معاوضے/مراعات کی بروقت ادائیگی کی جائے گی اور اس کا مفت علاج یقینی بنایا جائے گا
ضابطہ کار کے تحت، آجر کے لیے محنت کشوں کو کسی کام کے بارے میں ضروری معلومات اور تربیت کی فراہمی ضروری ہو گی۔ کام کے ماحول کو ہر طرح کے امتیازی سلوک سے پاک، محفوظ اور صحت مند رکھا جائے گا۔ آجر کی جانب سے محنت کش کے تحفظ میں کوتاہی کی صورت میں قانونی کارروائی مزدور کا حق ہو گا اور ایسی صورت میں اسے کسی طرح کی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
حکومت سندھ کی جانب سے مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے بینظیر مزدور کارڈ کا اجراء، جس کے تحت مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو مفت علاج، بچوں کو تعلیمی وظائف، اجرت میں اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات دی جارہی ہیں۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ مزدور میں کارڈ تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ 8 لاکھ 50 ہزار مزدور کارڈ فل فور جاری کرنے کے عمل کا آغاز بھی کیا جاچکا ہے
