July 24, 2026

صنعتی شہر کراچی کے زوال کی داستان

 صنعتی شہر کراچی کے زوال کی داستان

آدم عباس

اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی جانب سے جاری کردہ 2026 کے عالمی لائیویبلٹی انڈیکس نے ایک بار پھر پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی حب اور روشنیاں کہلانے والے شہر کراچی کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کیا ہے

اس عالمی رپورٹ کے مطابق ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن مسلسل دوسرے سال دنیا کا سب سے بہترین اور رہنے کے قابل شہر قرار پایا ہے جبکہ ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ کراچی گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر کے 173 شہروں میں 170ویں نمبر پر براجمان ہے

یعنی نیچے سے چوتھا نمبر یہ محض کوئی عام ہندسوں کا ہیر پھیر نہیں، بلکہ یہ صحت، تعلیم، امن و امان، انفراسٹرکچر اور ماحولیات کے شعبوں میں ہماری حکمرانی، ناقص شہری منصوبہ بندی اور ریاستی کارکردگی کا وہ عالمی کچا چٹھا ہے جس پر عالمی برادری مہرِ تصدیق ثبت کر چکی ہے

کوپن ہیگن کی عالمی سطح پر مسلسل پہلی پوزیشن اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مضبوط بلدیاتی ادارے، میرٹ، شفاف طرزِ حکمرانی، مثالی پبلک ٹرانسپورٹ، اور قانون کی یکساں عملداری کسی بھی عام سے شہر کو کیسے دنیا کی جنت بنا سکتی ہے

دوسری طرف کراچی ہے جو پورے پاکستان کی معیشت کا انجن ہے، ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ کا مالک ہے اور قومی خزانے کو ستر فیصد سے زائد ریونیو کما کر دیتا ہے لیکن بدلے میں اسے کیا ملتا ہے؟

دنیا کے بدترین اور غلیظ ترین شہروں کا شرمناک خطاب۔ کراچی کا یہ زوال وقتی، ناگہانی یا حادثاتی نہیں ہے بلکہ یہ دہائیوں پر محیط اس سیاسی بندربانٹ اور اندھیر نگری کا نتیجہ ہے

جس میں اس شہر کو صرف ایک سونے کی چڑیا سمجھ کر نوچا گیا، مگر اس کے بدلے اسے ایک ٹوٹی ہوئی سڑک تک نصیب نہ ہو سکی

اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی یہ دل دہلا دینے والی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سندھ کے جاگیردارانہ سیاسی ڈھانچے کے علمبردار حکمران عوام کو ماموں بنانے کے لیے ہوائی دعوؤں میں مصروف ہیں

ایک طرف پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کی سنگین خوش فہمی کا یہ عالم ہے کہ وہ گٹروں اور کچرے کے ڈھیروں میں ڈوبے اس کراچی کو فرانس کے دارالحکومت پیرس سے تشبیہ دیتی ہیں

تو دوسری جانب صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن میڈیا پر آ کر یہ سنسنی خیز دعویٰ داغ دیتے ہیں کہ کراچی میں کوئی ایک سڑک بھی کھدائی یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہے

حکمران جماعت کے وزراء اور ترجمان مسلسل اشتہاری مہمات اور سرکاری پروپیگنڈے کے ذریعے یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ کراچی راکٹ کی رفتار سے ترقی کر رہا ہے بعض اوقات تو ان کے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ کراچی نے ترقی کے میدان میں نیویارک لندن اور ٹوکیو کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے

لیکن جھوٹ کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ اس کے پاؤں نہیں ہوتے جب ان مصنوعی سیاسی بیانات کا سامنا بین الاقوامی اداروں کی غیر جانبدار سائنسی رپورٹس اور زمینی حقائق سے ہوتا ہے تو ان کے جھوٹ کے محل ریت کے ڈھیر کی طرح زمین بوس ہو جاتے ہیں

اگر صنعتی شہر کراچی واقعی پیرس بن چکا ہوتا، تو اجڑے ہوئے انفراسٹرکچر کی یہ بھیانک تصویر عالمی انڈیکس میں 170ویں نمبر پر نظر نہ آتی سندھ کی جاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والی اشرافیہ نے کراچی کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔

انہوں نے شہر کے سسکتے ہوئے مسائل حل کرنے کے بجائے، ان مسائل کے وجود ہی سے انکار کو اپنی بنیادی سیاسی حکمت عملی بنا لیا ہے

شہر کا کچرا اٹھانے کا نظام مفلوج ہے اور پورا شہر کوڑے دان کا منظر پیش کر رہا ہے سیوریج کا نظام اس حد تک فرسودہ ہو چکا ہے کہ ہلکی سی بارش میں ابلتے ہوئے گٹر سڑکوں کو تالاب بنا دیتے ہیں

ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑی گئی عوام سڑکوں پر خوار ہو رہی ہے اور پینے کے پانی کی بوند بوند کے لیے ٹینکر مافیا کو بھاری رقوم دینے پر مجبور ہے

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شہر کی عظمت اور خوبصورتی وزیروں کی لفاظی ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے مہنگے اشتہارات یا سیاسی نعروں سے نہیں، بلکہ وہاں کے گلی محلوں میں رہنے والے شہریوں کے معیارِ زندگی سے ناپی جاتی ہے

جب ایک عام کرچی والا روزانہ بدترین ٹریفک جام، لوٹ مار، فضائی آلودگی اور سڑکوں کے گڑھوں کا عذاب جھیلتا ہے، تو حکمرانوں کا پیرس والا راگ اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے

تاریخ کا یہ ابدی اصول ہے کہ اعداد و شمار، آزاد تحقیقی ادارے اور عوام کا اپنا روزمرہ کا عملی تجربہ بالاخر ہر قسم کے جھوٹے اور مصنوعی بیانیے کو ملیا میٹ کر دیتا ہے

اگر حکمران طبقہ واقعی کراچی کو دنیا کے بہترین اور رہنے کے قابل شہروں کی صف میں کھڑا کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی جاگیردارانہ خرمستیاں بند کر کے زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا

کیونکہ مسائل کا ڈھٹائی سے انکار کرنا کبھی بھی ان کا حل نہیں ہوا کرتا۔ کراچی کو پیرس بنانے کے خواب دیکھنا چھوڑیں اسے صرف رہنے کے قابل کراچی ہی رہنے دیں تو عوام پر بڑا احسان ہو گا

تعارف ،  آدم عباس ممتاز دانشور، مصنف، مترجم اور ترقی پسند نظریاتی استاد ہیں وہ طویل عرصے سے پاکستان میں مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق، اور ان میں اجتماعی سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے فکری سطح پر سرگرم ہیں پاکستان میں محنت کشوں کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرنے والے چند گنے چنے فکری رہنماؤں میں سے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp