اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
صنعتی شاہکار ویسپا اسکوٹر کے 80 سال مکمل ہونے پر عالمی جشن
اسرار ایوبی
اٹلی کے دارالحکومت روم میں گزشتہ دنوں دنیا کی سب سے مقبول اور نسل در نسل پسندیدہ سواری ویسپا اسکوٹر کی تیاری کے 80 سال مکمل ہونے پر چار روزہ جشنِ ویسپا انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا
25 تا 28 جون 2026ء تک جاری رہنے والے اس رنگا رنگ میگا ایونٹ نے اطالوی طرزِ زندگی اور ثقافت کے کئی خوبصورت رنگ نمایاں کیے
اس تاریخی موقع پر دنیا بھر کے ویسپا کلبوں کے اراکین، رائیڈرز اور ہزاروں شائقین اپنے دیدہ زیب اسکوٹرز کے ساتھ روم پہنچے، جس سے شہر کی سڑکوں پر ایک جادوئی سماں بندھ گیا۔
تقریبات کا باقاعدہ آغاز روم کے شمال میں واقع ‘فورو اٹالیکو’ اسپورٹس کمپلیکس میں قائم ‘ویسپا ولیج’ کے افتتاح سے ہوا اس جشن کا سب سے بڑا مرکزِ نگاہ ہفتے کی صبح منعقد ہونے والی تاریخی پریڈ تھی، جس میں 10 ہزار سے زائد رنگ برنگے ویسپا اسکوٹرز نے روم کے وسطی علاقوں اور تاریخی مقامات کا چکر لگایا
یہ وہ گلیاں تھیں جہاں عام طور پر نجی گاڑیوں کا داخلہ سختی سے ممنوع ہوتا ہے، لیکن اس دن روم کے میئر رابرٹو گوالتیری نے خصوصی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ویسپا دوسری جنگِ عظیم کے بعد اٹلی کی معاشی و سماجی بحالی اور ہماری ثقافت کی ایک مثالی علامت ہے
اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے بھی اس برانڈ کی تعریف کرتے ہوئے اسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اطالوی صنعتی و تخلیقی علامت قرار دیا
پیاجیو گروپ کے سی ای او میٹیو کولانینو کے مطابق، 1946ء سے اب تک کمپنی تقریباً 2 کروڑ اسکوٹرز تیار کر چکی ہے۔
ویسپا کی تخلیق کے پیچھے ایک منفرد تاریخی پس منظر ہے۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد جب اٹلی شدید معاشی بحران کا شکار تھا اور اتحادی ملکوں کی پابندیوں کے باعث اس کی ہوائی جہاز سازی کی صنعت تباہ ہو چکی تھی تو اطالوی صنعت کار اینریکو پیاجیو نے محسوس کیا کہ عوام کو ایک سستی، ہلکی اور قابلِ اعتماد سواری کی ضرورت ہے
انہوں نے بمبار طیارے بنانے والی اپنی فیکٹری کو اسکوٹر اسمبلی لائن میں تبدیل کر دیا انہوں نے ہوابازی کے مایہ ناز انجینئر کوراڈینو ڈی اسکانیو کو نیا ڈیزائن تیار کرنے کا کام سونپا
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی اسکانیو موٹر سائیکلوں کو بھاری اور گندی سواری سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک ایسا ڈیزائن بنایا جس کا فریم مونوکوک تھا
یعنی گاڑی کی دھاتی باڈی ہی چیسس کا کام کرتی تھی، اور اس میں سامنے ایک بڑی شیلڈ لگائی تاکہ سوار کے کپڑے کیچڑ اور پانی سے خراب نہ ہوں
اس سواری کا نام ویسپا رکھنے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے جب انریکو پیاجیو نے پہلی بار اس کا حتمی ڈیزائن دیکھا، جس کا پچھلا حصہ گول و موٹا، درمیانی حصہ پتلا اور ہینڈل بار کسی حشرے کی مونچھوں جیسا تھا، تو انہوں نے بے ساختہ اطالوی زبان میں کہا یہ تو بالکل ایک بھڑ کی طرح لگتا ہے
اسی وجہ سے لاطینی اور اطالوی زبان میں بھڑ کہلائے جانے والے لفظ پر اس کا نام ویسپا رکھ دیا گیا 23 اپریل 1946ء کو پیاجیو کمپنی نے فلورنس میں اس کا باقاعدہ پیٹنٹ حاصل کیا، جس میں 98 سی سی کا ٹو-اسٹروک انجن اور 8 انچ کے چھوٹے پہیے استعمال کیے گئے تھے
شروع میں یہ ڈیزائن لوگوں کے لیے حیران کن تھا مگر جب کمپنی نے اسے قسطوں پر بیچنا شروع کیا تو اس کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ ہالی وڈ نے ویسپا کو عالمی شہرت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1952ء کی شہرہ آفاق فلم رومن ہالیڈے میں آڈرے ہپبرن اور گریگوری پیک نے جب روم کی سڑکوں پر ویسپا دوڑائی تو اس کے بعد راتوں رات اسکوٹر کی مانگ میں لاکھوں کا اضافہ ہو گیا
1950 اور 60 کی دہائیوں تک جرمنی، برطانیہ، فرانس، بھارت اور انڈونیشیا میں بھی یہ لائسنس کے تحت تیار ہونے لگا۔ پیاجیو گروپ آج ویسپا کے علاوہ اپریلیا، موٹو گوزی اور ڈربی جیسے نامور برانڈز کا مالک ہے
آج کے دور میں جہاں یورپ، امریکہ اور جاپان میں ویسپا کو پارکنگ کی بچت اور ایک تفریحی و فیشن ایبل سواری کے طور پر خریدا جاتا ہے
وہاں ایشیائی ممالک بالخصوص پاکستان اور میکسیکو میں یہ اب بھی ایک انتہائی عملی، مضبوط اور روزمرہ استعمال کی خاندانی سواری سمجھی جاتی ہے، جس پر بعض اوقات پورا خاندان سفر کرتا ہے
وقت کے بدلتے تقاضوں اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پیاجیو کمپنی نے جہاں 2024ء میں اپنی 140 ویں سالگرہ پر ایک لمیٹڈ ایڈیشن پیش کیا وہیں اب کمپنی نے الیکٹرک ویسپا کی لانچنگ کے بعد پٹرول اور بجلی سے بیک وقت چلنے والے جدید ہائبرڈ اسکوٹرز کی نئی رینج پر بھی کام شروع کر دیا ہے
80 سالہ جشن کی یہ رنگینیاں ثابت کرتی ہیں کہ ویسپا صرف ایک سواری نہیں، بلکہ آزادی اور جدت کا ایک لازوال عالمی رجحان ہے
تعارف، اسرار ایوبی پاکستان میں سماجی تحفظ اور مزدوروں کے حقوق کے شعبے کا ایک معتبر اور معروف نام ہیں۔ وہ ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن کے سابق افسر تعلقاتِ عامہ رہ چکے ہیں اور انہوں نے طویل عرصے تک محنت کشوں کے پنشن و دیگر مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے تحقیقی مضامین اور معاشی تجزیے لیبر قوانین کے ارتقا، سماجی تحفظ کے نظام اور ٹریڈ یونینز کی تاریخ پر گہری اور مستند چھاپ رکھتے ہیں
