اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
تائیوان میں تارکین وطن مزدوروں کے حقوق کی سنگین پامالیاں، عالمی رپورٹ جاری
تائیپے ( لیبرنیوز فارن ڈیسک ) تائیوان کی ٹیکسٹائل ملز تارکین وطن محنت کشوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں تائیوان کے ٹیکسٹائل سیکٹر میں جبری مشقت غیر قانونی بھرتی فیسوں کی وصولی، اور تنخواہوں میں کٹوتی جیسے سنگین مسائل پائے گئے ہیں
تحقیقات میں تائیوان کی نو (9) بڑی ٹیکسٹائل کمپنیوں کو ہدف بنایا گیا ہے جو نائیکی، ایڈیڈاس، پوما اور ایچ اینڈ ایم جیسے عالمی فیشن برانڈز کو کپڑا فراہم کرتی ہیں
رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا سے آنے والے غریب مزدوروں سے تائیوان پہنچنے کے لیے 6,000 ڈالر تک غیر قانونی فیس وصول کی جاتی ہے،
جس کے باعث وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اس کے علاوہ ان کے سفری دستاویزات ضبط کرنے اور نقل و حرکت پر پابندی لگانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
اس رپورٹ کے بعد تائیوان کے اعلیٰ حکومتی واچ ڈاگ کنٹرول یوآن نے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کر دی ہیں
