اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
محنت کش شبیر مسیح کو انصاف کا انتظار ہے
لطیف انصاری
————
فیصل آباد کے علاقے ستارہ کالونی بھٹہ چوک نواباں والا میں پیش آنے والا سانحہ ہمارے اس سنگدل انتظامی نظام اور غریب محنت کشوں کے ساتھ برتی جانے والی مجرمانہ غفلت کی ایک اور دلخراش مثال ہے
اس نظام کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ غریب کی جان چلی جائے تب بھی دفتری فائلوں اور کھوکھلے وعدوں کا پہیہ اپنی رفتار نہیں بدلتا
شبیر مسیح تین معصوم بچوں کا باپ تھا، جو ایک کرائے کے مکان میں رہ کر اپنے کنبے کا پیٹ پال رہا تھا۔ وہ فیصل آباد کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی واسا میں یومیہ اجرت پر ملازم تھا
لیکن بے حسی کی انتہا یہ تھی کہ اسے گزشتہ دو ماہ سے محنت کی کمائی یعنی تنخواہ بھی ادا نہیں کی گئی تھی۔ 6 مئی کی بدقسمت صبح، وہ اپنے ساتھی ملازم سانول مسیح کے ہمراہ بغیر کسی بنیادی حفاظتی سامان، آکسیجن ماسک یا سیفٹی کٹس کے ایک گہرے سیوریج گٹر میں اترنے پر مجبور ہوا
زہریلی گیس کا اخراج اس غریب کے لیے موت کا پیغام ثابت ہوا اور شبیر مسیح وہیں دم توڑ گیا، جبکہ اس کے ساتھی سانول مسیح کو انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
اس المناک شہادت کے بعد، جیسا کہ ہمارے ہاں روایتی طور پر ہوتا ہے، تعزیت اور تسلیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ واسا کے اعلیٰ افسران نے مرحوم کی بیوہ رخشندہ کو فوری طور پر سرکاری ملازمت دینے کی پختہ یقین دہانی کروائی
مقامی ممبر صوبائی اسمبلی رانا شہریار خان نے بھی متاثرہ خاندان کے گھر کا دورہ کیا اور ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا۔ مگر افسوس، وقت گزرنے کے ساتھ یہ تمام وعدے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ اس غمزدہ اور بے سہارا بیوہ کو روزانہ دفاتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں، جہاں اسے گھنٹوں انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھا جاتا ہے۔ ملازمت کا پروانہ دینے کے بجائے محض ٹال مٹول اور جھوٹے لارے دیے جا رہے ہیں
ایک ایسے معاشرے میں جہاں ایک سینٹری ورکر حقیقت میں گندگی صاف کرنے والا سپر ہیرو ہے، اس کی بیوہ کو بار بار دفتر بلا کر تذلیل کا نشانہ بنانا اور انصاف سے محروم رکھنا انتظامی نااہلی اور بے حسی کی بدترین مثال ہے
اگر منتخب نمائندے اپنے کیے گئے وعدے پورے کرنے کی صلاحیت یا نیت نہیں رکھتے تو کم از کم کسی کے زخموں پر جھوٹی امیدوں کا نمک تو نہ چھڑکیں۔
اس دلخراش معاملے پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی گورننگ باڈی کے رکن سعد چوہدری نے حال ہی میں لیبر ڈیپارٹمنٹ میں مرحوم شبیر مسیح کی بیوہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے خاندان کے ساتھ گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس استحصالی نظام کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے اور مرحوم کے خاندان کو ان کے تمام قانونی اور اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ مزدور حقوق دلانے کے لیے ہر سطح پر کوشش کریں گے۔
حکومتِ پنجاب، اعلیٰ حکام اور واسا انتظامیہ سے پرزور مطالبہ ہے کہ شبیر مسیح کی بیوہ کو فوری طور پر مستقل ملازمت دی جائے تاکہ وہ اپنے تین یتیم بچوں کے لیے چھت، تعلیم اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر سکے
اس کے ساتھ ہی مجرمانہ غفلت برتنے والے اور غریب ملازم کو بغیر سیفٹی گیئر کے گٹر میں اتارنے والے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری قانونی اور محکمائی کارروائی کی جائے
ملازمین کی جانوں سے کھیلنے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ تمام سیوریج اور سینی ٹیشن ورکرز کے لیے جدید حفاظتی کٹس، آکسیجن ماسک اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے عالمی معیارات کو یقینی بنایا جائے
بصورتِ دیگر مزدور تنظیمیں اور سول سوسائٹی اس بے حسی کے خلاف سڑکوں پر آ کر بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گی۔ غریب کا خون اتنا ارزاں نہیں ہونا چاہیے کہ گٹر کے سیاہ پانی میں بہہ جائے اور نظام ٹس سے مس نہ ہو
تعارف ، بابا لطیف انصاری پاکستان کے معروف مزدور رہنما ہیں جو پاکستان لیبر قومی موومنٹ کے چیئرمین اور حقوق خلق پارٹی پنجاب کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دہائیوں سے فیصل آباد اور پنجاب کے دیگر صنعتی علاقوں میں پاور لومز مزدوروں اور بھٹہ خیز مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں، یونین سازی کی آزادی اور مزدوروں کے حقوق پر کسی بھی سمجھوتے کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں حقوق خلق پارٹی کے ذریعے وہ مزدوروں کے مسائل کو سیاسی سطح پر حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
