July 24, 2026

پریم یونین اور ریلوے مزدوروں کا مستقبل

 پریم یونین اور ریلوے مزدوروں کا مستقبل

شیخ محمد انور

پاکستان ریلوے، جو کبھی ملکی معیشت میں دھڑکتے ہوئے دل کی مانند تھا، آج اپنے ہی ملازمین کے حقوق کی پامالی اور انتظامی بے حسی کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔

 ایسے مخدوش حالات میں لاہور میں ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی حالیہ تقریب نے ریلوے ملازمین کے اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کی ایک نئی اور روشن تاریخ رقم کر دی ہے۔

 چیئرمین ڈرائیورز ایسوسی ایشن تنویر حسین کی صدارت میں ہونے والے اس باوقار اجتماع میں ملک بھر سے آئے ہوئے تقریباً 250 ٹرین ڈرائیورز اور ملازمین کی بھرپور شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب ریلوے کا محنت کش اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار ہو چکا ہے

اس پُروقار موقع پر شرکاء نے پریم یونین کی بااصول قیادت پر اپنے غیرمتزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رفاقت اور وابستگی کے ثبوت میں ممبرشپ فارم مرکزی قیادت کے سپرد کیے۔ یہ محض ایک روایتی عمل نہیں تھا،

 بلکہ مزدور اتحاد، اجتماعی شعور اور بااصول قیادت پر بھرپور یقین کی تجدید تھی۔ محنت کشوں نے اس عزمِ صمیم کا اعادہ کیا کہ وہ مزدور کے وقار، حقوق کے تحفظ، انصاف کے حصول اور پاکستان ریلوے کی بقا و ترقی کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر ثابت قدمی کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

 تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مزدور طبقہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتا ہے، تو اقتدار کے ایوانوں کو ان کے مطالبات کے آگے جھکنا ہی پڑتا ہے۔

تقریب کے دوران ٹرین ڈرائیورز نے اس امید کا اظہار کیا کہ پریم یونین عدالتِ عالیہ (ہائی کورٹ) کے فیصلے کے مطابق ڈرائیورز کی اپ گریڈیشن پر فی الفور عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے گی،

تاکہ برسوں سے اپنے حق سے محروم ان ملازمین کو ان کا جائز اور قانونی حق مل سکے۔ ٹرین ڈرائیور، جو دن رات موسم کی سختیوں اور تکنیکی دشواریوں کے باوجود ہزاروں مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں،

آج اپنے بنیادی حقوق کے لیے عدالتوں اور یونینز کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ عدالتِ عالیہ کا فیصلہ آ چکنے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے لیت و لعل کا مظاہرہ نہ صرف توہینِ عدالت ہے بلکہ ان محنت کشوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پریم یونین صرف ٹرین ڈرائیورز ہی نہیں بلکہ مکینیکل، انجینئرنگ اور گینگ مین سمیت تمام ریلوے ملازمین کے حقوق کی جنگ ہر فورم پر لڑنے کے لیے پرعزم ہے

ریلوے ملازمین کو اس وقت کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں ٹی اے/ڈی اے کی طویل عرصے سے عدم ادائیگی اور سب سے بڑھ کر ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ نجکاری شامل ہیں۔

ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی پالیسی نے ریلوے کے مستقل ملازمین کے مستقبل پر مینوفیکچرنگ اور معاشی تلوار لٹکا دی ہے

ہم ان تمام مسائل کے حل کے لیے ریلوے کے متعلقہ اعلیٰ حکام سے بھرپور انداز میں بات کریں گے اور کسی بھی فورم پر ملازمین کے ساتھ ناانصافی یا ان کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس تقریب نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اتحاد ہی مزدور کی اصل طاقت ہے۔ جب تک ریلوے ملازمین ایک پلیٹ فارم پر متحد رہیں گے، ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکے گا اور حق و انصاف کی منزل ان کا مقدر بنے گی۔ یہ شاندار تقریب اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ پاکستان ریلوے کا با شعور محنت کش اپنے حقوق، عزتِ نفس اور روشن مستقبل کے لیے ایک ہو چکا ہے، اور پریم یونین ان کی امیدوں کا مرکز بن کر ان کی آواز بلند کرتی رہے گی

ہم حق، اتحاد اور وقار کے اس قافلے کا حصہ بننے والے تمام نئے ساتھیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں. یقیناً یہ کارواں اب مزید طاقت، عزم اور ولولے کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہے گا، اور ریلوے کے مزدور کو اس کا جائز مقام دلا کر ہی دم لے گا۔

تعارف : شیخ محمد انور پاکستان ریلوے کی طاقتور ترین نمائندہ تنظیم پریم یونین کے مرکزی صدر اور صفِ اول کے سینئر مزدور رہنما ہیں، جو دہائیوں سے ریلوے محنت کشوں کے حقوق کی نظریاتی و عملی جدوجہد کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں، ایک صاحبِ طرز ادیب اور دانشور کے طور پر وہ اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف ریلوے کے انتظامی بحرانوں کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ مزدور تحریک میں فکری شعور بیدار کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp