July 23, 2026

مزدور کا اصل استحصال اور محکمہ محنت سندھ کی خاموشی

 مزدور کا اصل استحصال اور محکمہ محنت سندھ کی خاموشی

محمد سلیم
————

پاکستان میں مزدور تحریکوں کی تاریخ جتنی طویل ہے، محنت کشوں کے مسائل کا پھیلاؤ بھی اتنا ہی وسیع ہے۔ ہم اکثر اپنے حقوق کی پامالی پر آواز اٹھاتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں اور متعلقہ فلاحی اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں

اس جدوجہد میں ہم ہمیشہ سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن سیسی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہیں اور ان سے نالاں بھی رہتے ہیں

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ان اداروں میں ماضی میں بھی کرپشن کی داستانیں عام رہی ہیں اور آج بھی ان کی سروسز اور انتظامی امور کے خلاف محنت کشوں کو بے شمار شکایات موجود ہیں۔ لہٰذا، ان اداروں پر تنقید ہونی چاہیے اور ان کا کڑا احتساب بھی وقت کا اہم تقاضا ہے

لیکن یہاں ایک بڑا اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی اسی شدت، اسی انداز اور اسی تسلسل کے ساتھ محکمہ محنت سندھ کے اصل کرتا دھرتا یعنی ڈی جی لیبر اور سیکریٹری لیبر سندھ سے بھی کوئی سوال کیا ہے؟

 کیا ہم نے ان اعلیٰ افسران پر عدالتوں کے اندر یا کسی اور قانونی و عوامی فورم پر وہ دباؤ ڈالا ہے جو ایک فعال ٹریڈ یونین یا فیڈریشن کو ڈالنا چاہیے تھا؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس محاذ پر ہماری حکمتِ عملی ہمیشہ کمزور رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ محکمہ محنت سندھ کا وہ بنیادی ادارہ جسے ہم ‘لیبر ڈیپارٹمنٹ’ کہتے ہیں، مزدوروں کے آئینی اور بنیادی حقوق کے نفاذ کی اولین اور حتمی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔

 حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت پر عمل درآمد کروانا ہو، فیکٹریوں اور کارخانوں میں تقرر نامے اپائنٹمنٹ لیٹر دلوانے ہوں، کام کی جگہ پر میڈیکل کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانی ہو، یا پھر ای او بی آئی اور سیسی میں ہر محنت کش کی لازمی رجسٹریشن کروانی ہو

یہ سب امور براہِ راست اسی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اگر فیکٹری مالکان اور صنعت کار مزدوروں کو ان کے ان جائز اور قانونی حقوق سے محروم رکھ رہے ہیں، تو اس میں فیکٹری مالکان کے ساتھ ساتھ محکمہ محنت کے افسران کی مجرمانہ غفلت، لاپرواہی اور چشم پوشی برابر کی شریک ہے۔

آج کے اس جدید دور میں بھی صوبے بھر کے ہزاروں اور لاکھوں مزدور ایسے ہیں جو صبح سے شام تک فیکٹریوں میں اپنا خون پسینہ بہاتے ہیں، لیکن ان کے پاس نہ تو کوئی اپائنٹمنٹ لیٹر ہے، نہ ان کے سیسی اور ای او بی آئی کے کارڈ بنے ہیں، اور نہ ہی انہیں کوئی دوسری قانونی یا طبی سہولیات میسر ہیں

ان محنت کشوں کو کسی بھی وقت بغیر کسی قانونی وجہ کے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ آخر اس کھلے اور منظم استحصال کا جواب کون دے گا؟ محکمہ محنت کے ان انسپکٹرز اور افسران کا احتساب کون کرے گا جن کی ناک کے نیچے یہ سب کچھ ہو رہا ہے؟

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سیسی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں مختلف درخواستیں اور کیسز زیر سماعت ہیں، جہاں ان کی کارکردگی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

 یہ ایک اچھا قدم ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جہاں سے مزدوروں کا اصل استحصال شروع ہوتا ہے، یعنی لیبر ڈیپارٹمنٹ کی سطح پر، وہاں ہماری آواز اتنی کمزور اور بے اثر کیوں ہو جاتی ہے؟ ہم جڑ کو چھوڑ کر صرف شاخوں پر کیوں بحث کر رہے ہیں؟

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کی تمام لیبر فیڈریشنیں، ٹریڈ یونینیں اور مزدور رہنما اپنے روایتی طریقوں کو بدلیں اور ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑے ہوں

ہمیں اب ہر اس ادارے اور افسر کا بلا امتیاز احتساب کرنا ہوگا جو مزدوروں کے حقوق کے تحفظ میں اپنی قانونی اور آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے

اگر ہم واقعی مزدور کے حق کی سچی بات کرتے ہیں اور محنت کش طبقے کو اس کا جائز مقام دلوانا چاہتے ہیں، تو پھر ہمیں کسی ایک فلاحی محکمے تک محدود رہنے کے بجائے استحصال کے اس پورے نظام اور اس کے ذمہ دار ہر ادارے سے سخت سوال کرنا ہوگا۔ جب تک بنیادی نفاذ کرنے والے اداروں کو جوابدہ نہیں بنایا جائے گا، مزدور کی حالتِ زار تبدیل نہیں ہو سکتی

تعارف : محمد سلیم پاکستان کے معروف مزدور رہنما اور پاکستان فیڈرشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے صدر ہیں مصنف کیمیکل، توانائی اور مائنز سیکٹر سے وابستہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ، لیبر قوانین کے نفاذ اور صنعتی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی مزدور تحریک میں اپنی جدوجہد، مؤثر قیادت اور محنت کشوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp