اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
نجکاری یا نام کی تبدیلی؟
محبوب الہی
کہتے ہیں جب کسی بیمار درخت کی شاخیں سوکھ جائیں تو مالی شاخیں نہیں بدلتا، جڑوں کا علاج کرتا ہے۔ ہمارے ہاں مگر روایت کچھ اور ہے۔ درخت وہی رہتا ہے، صرف اس کے گرد لگی تختی بدل دی جاتی ہے،
پھر اعلان کر دیا جاتا ہے کہ باغ بدل گیا۔ پی آئی اے کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جہاز اب کون اڑائے گا
سوال یہ ہے کہ ان برسوں کا خسارہ کس نے اٹھایا، اور آنے والے برسوں کا منافع کس کی جھولی میں جائے گا؟
حکومت کا مؤقف ہے کہ پی آئی اے کو قابل فروخت بنانے کے لیے اس کے تاریخی قرضوں اور مالی ذمہ داریوں کا بڑا حصہ الگ کرنا ضروری تھا۔
اسی مقصد کے لیے واجبات حکومت کے ذمے منتقل کیے گئے، مختلف مالی سہولتیں دی گئیں، اور طیاروں کے پرزہ جات پر طویل مدت کے لیے محصولات میں رعایت فراہم کی گئی تاکہ سرمایہ کاری ممکن بن سکے
لیکن عام آدمی کا سوال آج بھی وہی ہے کہ اگر یہی سہولتیں، یہی رعایتیں اور یہی انتظامی آزادی دس یا پندرہ سال پہلے دے دی جاتی تو کیا پی آئی اے واقعی اس حال تک پہنچتی؟ اگر دوا اتنی ہی مؤثر تھی تو مریض کو انتہائی نگہداشت تک پہنچنے کا انتظار کیوں کیا گیا؟
اصل دکھ یہ نہیں کہ کوئی ادارہ کس کے پاس گیا۔ اصل دکھ یہ ہے کہ نقصان ہمیشہ عوام کے حصے میں آیا، جبکہ منافع کی امید کسی اور کے حصے میں جاتی دکھائی دیتی ہے
جب ریاست خسارے اپنے پاس رکھے اور منافع بخش امکانات نئے انتظام کے حوالے کرے تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایسے سوال دشمنی نہیں، بلکہ قومی امانت کے تقاضے ہوتے ہیں۔ قومیں نعروں سے نہیں، حساب سے چلتی ہیں۔
عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ریاست نے کتنے ارب روپے کی ذمہ داریاں اپنے ذمے لیں، خریدار کتنی حقیقی سرمایہ کاری کرے گا، کتنی مدت میں کرے گا، اور اس سارے عمل سے قومی خزانے کو مجموعی فائدہ کیا ہوگا۔ شفافیت ہوگی تو اعتماد پیدا ہوگا، ورنہ ہر معاہدہ شکوک کے بادلوں میں گھرا رہے گا۔
یاد رکھیے، قومیں اس دن کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے ادارے خسارے میں چلے جائیں، بلکہ اس دن کمزور ہوتی ہیں جب سوال پوچھنے والوں کو خاموش اور جواب دینے والوں کو بے نیاز سمجھ لیا جائے
قومی اثاثے صرف عمارتیں، جہاز یا کارخانے نہیں ہوتے، یہ آنے والی نسلوں کی امانت ہوتے ہیں۔ امانت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر فیصلے کا حساب بھی ہو، کتاب بھی ہو، اور جواب دہی بھی۔
تعارف: محبوب الہیٰ سینئر مزدور رہنما اور مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کراچی کے صدر ہیں وہ طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ زیرِ بالا کالم میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش سنگین معاشی اور طبی مسائل کی نشاندہی کی ہے، جو برسوں کی خدمت کے باوجود آج حکومتی اور انتظامی بے حسی کا شکار ہیں
