اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
ترکیہ کے محنت کشوں کا مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال کا آغاز، پولیس تشدد اور گرفتاریاں
انقرہ( لیبر نیوز فارن ڈیسک) ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نجی شعبے کے محنت کشوں اور انٹرویو سسٹم کے متاثرین نے اپنے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے پولیس کریک ڈاؤن کے باوجود غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر ورکرز یونین کی قیادت میں جاری اس احتجاج نے ملک کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے
محنت کشوں کا سب سے اہم مطالبہ بیس سیلری بنیادی تنخواہ کے قانون کی بحالی ہے، جس کے خاتمے کے بعد ہزاروں محنت کش کم از کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں اور مالکان ان کا استحصال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 10 ماہ کے معاہدوں کا خاتمہ اور انٹرویو سسٹم کی منسوخی بھی مطالبات میں شامل ہے
احتجاج کے دوران لیبر یونین کے صدر ایرن ادیبالی اور ایجوکیشن یونین کے صدر کمال ارماک سمیت درجنوں محنت کشوں کو متعدد بار گرفتار کیا گیا اور ان پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا
اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے سربراہ اوزگور اوزیل نے بھی احتجاجی کیمپ کا دورہ کر کے محنت کشوں کے مطالبات کی بھرپور حمایت کی ہے۔ محنت کشوں کا کہنا ہے کہ جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، وہ انقرہ سے واپس نہیں جائیں گے۔
