اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
میثاقِ مزدور
جمیل احمد ملک
پاکستان کا ایک عام محنت کش شہری جب صبح آنکھ کھولتا ہے تو اسے ٹی وی اسکرینوں پر جمہوریت، اقتدار کے سنگھاسن اور سیاست دانوں کی روزمرہ کی لڑائیوں کا ایک لامتناہی سرکس نظر آتا ہے۔
مگر اس شور شرابے کے پیچھے جو اصل آواز دبا دی جاتی ہےوہ اس ملک کے کروڑوں سفید پوش شہریوں، کسانوں اور مزدوروں کی ہے
ملک کی موجودہ معاشی صورتحال ہوش ربا مہنگائی اور آئی ایم ایف کے قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے یہ احساس پختہ کر دیا ہے کہ موجودہ نظام صرف قلیل مدتی فائدے اور اقتدار بچانے کے لیے چل رہا ہے۔ یہ وقت شخصیات کی اندھی تقلید کا نہیں، بلکہ ایک ایسے میثاقِ مزدور کا ہے جو سیاسی نعروں سے پاک ہو اور جس کا واحد مقصد عام آدمی کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے
ہمارے حکمرانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ انہوں نے سیاسی فائدے اور ووٹ بینک برقرار رکھنے کے لیے عوام کو عارضی بیساکھیوں پر کھڑا کر دیا ہے
حوصلہ کارڈ، ہمت کارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ جیسے امدادی پروگرام بظاہر غریب پروری نظر آتے ہیں، لیکن باطنی حقیقت یہ ہے کہ یہ خیراتی کارڈز کا ماڈل پوری قوم کو محنت سے دور کر کے ذہنی طور پر بھکاری بنا رہا ہے۔
عوام کو حکومتوں سے خیرات، وظیفے یا راشن کی بھیک نہیں چاہیے؛ انہیں اپنی خودداری کی قیمت پر یہ عارضی ریلیف قبول نہیں۔
پاکستان کے غیرت مند عوام کو عزت کا روزگار، کاروبار کے آسان مواقع اور میرٹ پر نوکریاں چاہئیں تاکہ ہر فرد اپنی محنت کے بل بوتے پر کما سکے اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔ ریاست کا کام شہریوں کو معذور بنانا نہیں بلکہ انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانا ہوتا ہے۔
اس معاشی بحالی کا سب سے پہلا اور بنیادی ستون زراعت کی بحالی ہونا چاہیے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن افسوس کہ وہ آج مافیاز کے ہاتھوں بدترین استحصال کا شکار ہے۔
کسان کو بھی کسی حکومتی سبسڈی یا امداد کی بھیک نہیں چاہیے۔ وہ اپنے بازوؤں کی طاقت پر بھروسہ رکھتا ہے، بشرطیکہ حکومت اسے ایک منصفانہ ماحول فراہم کرے
اس کے لیے حکومت کو صرف تین بنیادی کام کرنے ہوں گے اول مارکیٹ سے بلیک میلنگ کا خاتمہ کر کے معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی مناسب قیمتوں پر بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے
دوم کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور طریقوں کی صحیح معلومات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں۔ سوم، کسان کی فصل کو مڈل مین اور منافع خور مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے،
عالمی منڈی تک رسائی کا ایک مستقل، آسان اور شفاف نظام وضع کیا جائے تاکہ محنت ہاری کرے اور منافع بھی اسی کی جیب میں جائے۔
معیشت اور زراعت کو ڈبونے میں سب سے بڑا کردار بجلی کے ظالمانہ نرخوں کا ہے۔ اس کا حل بھی حکومت کے پاس نہیں بلکہ عوام نے خود ڈھونڈ نکالا ہے
مگر وہاں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ سولر پینلز پر بڑی بڑی مراعات یا لولی پاپ دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ بھی بھیک کی ہی ایک شکل ہے
اس کے بجائے حکومت سولر پینلز، انورٹرز اور بیٹریوں پر عائد تمام فضول امپورٹ ڈیوٹیز اور ٹیکسز مستقل طور پر ختم کرے۔ سستی بجلی حاصل کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ جب سولر سسٹم سستا اور عام آدمی کی پہنچ میں ہوگا
تو کسان اور عام شہری اپنی جیب سے اسے خرید کر اپنے گھروں اور ٹیوب ویلوں کو منتقل کر لے گا۔ اس سے نہ صرف قومی گرڈ پر بوجھ کم ہوگا بلکہ پیداواری لاگت خود بخود نیچے آ جائے گی، جس کا براہِ راست فائدہ ملکی معیشت کو ہوگا۔
ان تمام اصلاحات کا پہیہ تب تک نہیں گھوم سکتا جب تک ملک کا عدالتی نظام مضبوط نہیں ہوگا اور قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوگی۔ جب تک ایک عام آدمی کو عدالتوں سے فوری اور سستا انصاف نہیں ملے گا، معاشرے میں معاشی اور سماجی استحکام کا خواب ادھورا رہے گا
ایک مضبوط اور شفاف عدالتی نظام ہی وہ واحد ضامن ہے جسے دیکھ کر بیرونی سرمایہ کار یہاں فیکٹریاں لگانے اور سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوں گے، جس سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارا میڈیا بھی اپنی ترجیحات کو بدلے۔ عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کون بیٹھتا ہے اور کون سا لیڈر کس پر کیچڑ اچھال رہا ہے
میڈیا کو چاہیے کہ وہ ٹاک شوز میں سیاست دانوں کی لایعنی لڑائیاں دکھانے کے بجائے کسانوں کے ان اصل مسائل، صنعتی مزدوروں کے حقوق اور معاشی اصلاحات پر کھل کر آواز اٹھائے
جب تک اس ملک کے غریب، یتیم، مسکین اور محنت کش طبقے کو ان کے جائز حقوق نہیں ملتے، تب تک حقیقی تبدیلی محض ایک سراب رہے گی۔ عوام کو اب جاگنا ہوگا اور شخصیات کی پوجا چھوڑ کر نظام کی اصلاح کا مطالبہ کرنا ہوگا
تعارف : جمیل احمد ملک پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کا ایک معتبر اور نمایاں نام ہیں، جو اس وقت کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مرکزی چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملک کے محنت کشوں، ہاریوں اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں ان کا بنیادی نظریہ کارل مارکس اور لینن کے افکار پر مبنی ہے۔ وہ ملک کے صنعتی و زرعی مزدوروں کے معاشی استحصال کے خلاف، سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے ہمیشہ ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے رہے ہیں انہوں نے کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ جیسے استحصالی نظام کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے وہ ایک ایسے پاکستان کے خواہاں ہیں جہاں محنت کش کو اس کے خون پسینے کی پوری قیمت ملے اور ریاست سچے معنوں میں ایک فلاحی مملکت کا روپ دھار سکے
