July 23, 2026

اوٹو وان بسمارک

 اوٹو وان بسمارک

اسرار ایوبی

مزدور کی اصل شکایت اس کی زندگی کے عدم تحفظ میں ہے۔ اسے یقین نہیں کہ اسے ہمیشہ کام ملتا رہے گا، وہ صحت مند رہے گا، یا بڑھاپے میں بے سہارا نہیں ہوگا

اگر وہ ایک طویل بیماری کی وجہ سے غربت کا شکار ہو جائے تو معاشرہ اس کے لیے معمول کی غریب پروری کے سوا کسی حقیقی ذمہ داری کو تسلیم نہیں کرتا

حالانکہ وہ ساری عمر نہایت وفاداری اور محنت سے کام کرتا رہا ہو جرمن سلطنت کے آہنی چانسلر اوٹو وان بسمارک کا 20 مارچ 1884ء کو پارلیمنٹ میں دیا گیا یہ تاریخی بیان آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے، جس نے دنیا میں پہلی بار مزدوروں کے حقوق اور سماجی تحفظ کو ایک قانونی شکل دی

سماجی تحفظ کا تصور بے حد وسیع ہے اور انسان روزِ اول سے تحفظ کا متلاشی رہا ہے۔ اسی لیے یونانی فلسفی ارسطو نے انسان کو “سماجی حیوان” قرار دیا تھا، کیونکہ کوئی بھی شخص تن تنہا ناگہانی حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتا

فارسی کا مقولہ ہے کہ مزدور خوش دل کند کار بیش یعنی آسودہ حال مزدور زیادہ کام کرتا ہے، اور اس فلسفے کو عملی جامہ سب سے پہلے جرمنی کے چانسلر اوٹو وان بسمارک (1815-1898) نے پہنایا

جدید جرمنی کے بانی اور سفارت کاری کے ماہر بسمارک نے 1880ء کی دہائی میں دنیا کا پہلا جامع ریاستی سماجی بہبود کا منصوبہ متعارف کرایا، جس کی وجہ سے انہیں جدید دنیا میں سماجی تحفظ کا “باوا آدم” کہا جاتا ہے۔

بسمارک نے جرمن پارلیمنٹ کے سامنے سماجی بیمہ کا خاکہ پیش کرتے ہوئے 1883ء میں قومی صحت دیکھ بھال منصوبہ، 1884ء میں حادثاتی انشورنس اور 1889ء میں بڑھاپے اور معذوری پینشن ایکٹ متعارف کروایا

اس نظام کے تحت 70 برس سے زائد عمر کے کارکنوں کے لیے دنیا کا پہلا باقاعدہ ریٹائرمنٹ اور معذوری پینشن نظام قائم ہوا، جس نے بعد میں آسٹریا، برطانیہ، روس، جاپان اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے لیے ایک رول ماڈل کا کام کیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک سخت قدامت پسند رہنما نے یہ نظام کیوں وضع کیا؟ اس کا بنیادی مقصد مزدور طبقے کو مطمئن کرنا، ان کے حالاتِ کار بہتر بنانا اور جرمنی میں ابھرتی ہوئی سوشلسٹ تحریک اور سوشل ڈیموکریٹس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا

بسمارک نے معیشت کی مضبوطی کے لیے جرمن صنعتوں کے ساتھ مل کر کام کیا اور اپنے مشیروں ہرمن واگنر اور تھیوڈور لوہمان کے مشورے پر مزدوروں کو ریاست کے قانونی نظام میں باقاعدہ حیثیت دی۔

یہ فلاحی پروگرام بنیادی طور پر انشورنس نظام پر مبنی تھا۔ دورانِ کار حادثے کی صورت میں مزدوروں کو طبی علاج اور معذوری پینشن فراہم کی جاتی تھی، جبکہ بیماری کی صورت میں 13 ہفتوں تک ‘سک پے‘ (Sick Pay) دی جاتی تھی

اس فنڈ کا ایک تہائی حصہ آجران اور دو تہائی مزدور ادا کرتے تھے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے مقامی دفاتر قائم کیے گئے جن میں مزدوروں کی نمائندگی زیادہ تھی

جس کا سیاسی فائدہ سوشل ڈیموکریٹس کو بھی ہوا اور انہیں پہلی بار عوامی انتظامیہ میں جگہ ملی۔ 1886ء میں اس قانون کا دائرہ زرعی اور گھریلو ملازمین تک وسیع کر دیا گیا، جس سے ملازمین کی شرحِ اموات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

اوٹو وان بسمارک ایک متمول لیکن متوسط جاگیردار اور فوجی افسر کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ وہ غیر معمولی طور پر تعلیم یافتہ تھے اور جرمن کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی، اطالوی، پولش اور روسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔

انہوں نے گوٹنگن اور برلن یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور زراعت کی اعلیٰ تربیت بھی لی۔ وہ 1862ء سے 1890ء تک پروشیا کے وزیرِ اعظم رہے اور ان کی قیادت میں پروشیا نے تین فیصلہ کن جنگیں جیت کر متحدہ جرمن سلطنت قائم کی

جہاں مورخین ان کی دور اندیش سفارت کاری کو سراہتے ہیں، وہاں ان کی آمرانہ حکمرانی اور سیاسی جبر پر تنقید بھی کی جاتی ہے

اس فلاحی نظام کی بدولت جرمن مزدوروں کی امریکہ ہجرت میں کمی آئی اور ملکی صنعت کو ایک مستقل قوتِ محنت میسر آئی

1890ء میں چانسلر کے عہدے سے ہٹائے جانے اور 1894ء میں اہلیہ کے انتقال کے بعد بسمارک وہیل چیئر تک محدود ہو گئے اور اپنی یادداشتیں خیالات اور یادیں قلمبند کرنے کے بعد 30 جولائی 1898ء کو وفات پا گئے۔

ان کا لگایا ہوا سماجی تحفظ کا پودا آج ایک شجرِ سایہ دار بن چکا ہے، جس کے ثمرات سے دنیا بھر کے کروڑوں محنت کش فیضیاب ہو رہے ہیں۔

تعارف، اسرار ایوبی پاکستان میں سماجی تحفظ اور مزدوروں کے حقوق کے شعبے کا ایک معتبر اور معروف نام ہیں۔ وہ ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن  کے سابق افسر تعلقاتِ عامہ رہ چکے ہیں اور انہوں نے طویل عرصے تک محنت کشوں کے پنشن و دیگر مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے تحقیقی مضامین اور معاشی تجزیے لیبر قوانین کے ارتقا، سماجی تحفظ کے نظام اور ٹریڈ یونینز کی تاریخ پر گہری اور مستند چھاپ رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp