May 28, 2026

پاکستان کی مزدور تحریک کا مستقبل اور سوالات

 پاکستان کی مزدور تحریک کا مستقبل اور سوالات

عمران علی

————

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یکم مئی 2026 روایتی جوش و خروش، ریلیوں اور سیمینارز کے ساتھ منایا گیا۔ ملک کے طول و عرض میں شکاگو کے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا،

شاہراہوں پر اجتماعات ہوئے اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے بلند بانگ دعوے کیے گئے۔ لیکن اس تمام گہما گہمی کے بعد ایک تلخ سوال اپنی جگہ موجود ہے کیا پاکستانی مزدور تحریک کے پاس مستقبل کے لیے کوئی واضح اور عملی لائحہ عمل موجود ہے؟

افسوسناک امر یہ ہے کہ بیشتر مزدور تنظیموں کی تقاریر آج بھی چند روایتی مسائل جیسے سوشل سکیورٹی، ورکر بورڈ،  ای او بی آئی، اور کم از کم اجرت کے گرد ہی گھوم رہی ہیں۔

 بلاشبہ یہ مسائل اہم ہیں، لیکن یہ اس بڑے بحران کا محض ایک حصہ ہیں جو اس وقت محنت کش طبقے کو درپیش ہےآج مزدوروں پر سب سے بڑا حملہ قانون سازی کے ذریعے کیا جا رہا ہے

پنجاب اور سندھ کے مجوزہ لیبر کوڈز محنت کشوں کے تاریخی حقوق پر شب خون مارنے کی ایک منظم کوشش ہیں۔ قوانین کو یکجا کرنے کے لبادے میں ملازمت کے تحفظ، ٹریڈ یونین سازی کے حق اور صنعتی تنازعات کے حل جیسے بنیادی حقوق کو کمزور کیا جا رہا ہے

اس سے بھی زیادہ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ان مزدور دشمن کوڈز کے خلاف کوئی متحدہ قومی مزاحمتی تحریک اب تک سامنے نہیں آ سکی رسمی قراردادیں اور وقتی احتجاج اپنی جگہ، مگر ایک مربوط حکمت عملی اور مشترکہ پلیٹ فارم کا فقدان واضح ہے

پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کا یہ پختہ موقف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مزدور تحریک رسمی سرگرمیوں اور فوٹو سیشنز سے نکل کر سنجیدہ اور طویل المدتی جدوجہد کا راستہ اختیار کرے

پاکستان میں مزدور تحریک اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ محض روایتی نعروں اور سالانہ تقریبات سے اب محنت کشوں کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔ پنجاب اور سندھ کے مجوزہ لیبر کوڈز محنت کشوں کے تاریخی حقوق پر ایک سنگین حملہ ہیں، جنہیں فوری طور پر واپس لینا ناگزیر ہے

وقت کا تقاضا ہے کہ تمام فیڈریشنز ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ قومی ایکشن کمیٹی تشکیل دیں تاکہ مزدور دشمن قانون سازی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا جا سکے

عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کے لیے ماہرین کا قانونی سیل، ورکر ویلفیئر بورڈ اور ای او بی آئی میں کرپشن کے خلاف عملی مہم، اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم کا خاتمہ ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں

ہمیں غیر رسمی شعبے اور خواتین ورکرز کو بھی تحریک کا حصہ بنانا ہوگا۔ جب تک ہم منظم نہیں ہوں گے، معمارِ وطن اپنے جائز حق سے محروم رہے گا

محض ایک دن کی ریلیاں اور بیانات مزدور کے مسائل کا حل نہیں ہیں۔ آج سرمایہ دار طبقہ منظم ہے اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہو رہا ہے، جبکہ مزدور تحریک اندرونی تقسیم اور غیر سنجیدہ رویوں کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہے

یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ سنجیدہ احتساب اور اپنی سمت درست کرنے کا ہے۔ اگر آج ہم نے متحد ہو کر مزاحمت نہ کی تو آنے والا وقت مزید ہولناک ہوگا مزدور صرف معیشت کا پہیہ نہیں چلاتا، وہ اس ملک کا اصل معمار ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس معمار کو اس کا جائز حق اور وقار دیا جائے

تعارف : عمران علی پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری ہیں وہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں صفِ اول کے رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور صنعتی شعبے سے وابستہ محنت کشوں کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مزدوروں کی فلاحی اسکیموں میں موجود نظامی خرابیوں اور انتظامی بحران پر آواز بلند رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp