پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
پی آئی اے ریٹائرڈ ملازمین کی بدحالی
محبوب الہیٰ
——————
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ریٹائرڈ ملازمین کا مسئلہ اب محض ایک انتظامی خامی نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسا زندہ المیہ بن چکا ہے جو خاموشی سے کئی زندگیاں نگل رہا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کی بے رحم رفتار ہے، دوسری طرف وہ پنشن جو وقت کے کسی قدیم کونے میں منجمد ہو کر رہ گئی ہے، اور تیسری طرف وہ میڈیکل سہولت جسے اب سہولت کہنا بھی ایک تلخ مذاق محسوس ہوتا ہے
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جوانیاں اس قومی ادارے کے نام کر دیں، دن رات کی محنت سے اسے بلندیوں تک پہنچایا، مگر آج جب انہیں سہارے کی ضرورت ہے تو جیسے زمین ان کے پاؤں کے نیچے سے کھینچ لی گئی ہو
اس المیے کا سب سے بڑا دکھ فکسڈ پنشن ہے یہ ایک ایسی رقم ہے جو سالوں سے ساکت ہے جیسے وقت رک گیا ہو حقیقت اس کے برعکس ہے بازار بدل چکے ہیں قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں مگر پنشن وہی ہے۔
2008 میں ریٹائر ہونے والا ایک افسر جو اس وقت 8 ہزار روپے پر گزارہ کر رہا تھا، آج بھی اسی قلیل رقم کے ساتھ زندگی کی سانسیں گن رہا ہے جبکہ اسی دوران ادویات کی قیمتوں میں 500 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ دل، شوگر اور کینسر جیسے موذی امراض میں مبتلا بزرگوں کے لیے یہ پنشن اب سہارا نہیں بلکہ بے بسی کی علامت بن چکی ہے۔
پھر طبی سہولیات کا بحران آتا ہے۔ میڈیکل سروسز کو اسٹیٹ لائف انشورنس کے حوالے کرنا بظاہر ایک بہتر قدم تھا، مگر عملاً یہ ایک ایسا بھول بھلیاں ثابت ہوا جہاں صرف تاخیر اور کاغذی الجھنیں ملتی ہیں۔
ایک بیمار بزرگ کو علاج سے پہلے فارموں اور منظوریوں کے لامتناہی چکر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں تو نظام جیسے مفلوج ہو جاتا ہے۔ مریض اپنی جمع پونجی خرچ کرتا ہے اور بعد میں رقم کی واپسی ایک خواب بن جاتی ہے۔
اس پر مستزاد یہ کہ سالانہ حد مقرر ہے، جو سنگین بیماریوں کے سامنے چند ہفتوں میں ختم ہو جاتی ہے، جس کے بعد مریض کو بیماری کی تکلیف کے ساتھ ساتھ مالی بوجھ بھی تنہا اٹھانا پڑتا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے کربناک پہلو خوف ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین جانتے ہیں کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ان کے بس میں نہیں۔ وہاں وہ وقت درکار ہے جو ان کی زندگی کی شام میں میسر نہیں اور وہ پیسہ درکار ہے جو ان کے پاس ہے ہی نہیں
انہیں ڈر لاحق رہتا ہے کہ اگر آواز اٹھائی تو کہیں باقی بچی کچی سہولتیں بھی چھین نہ لی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا احتجاج سڑکوں پر نہیں بلکہ واٹس ایپ گروپس اور موبائل اسکرینوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ایک ایسا احتجاج جو موجود تو ہے مگر بے اثر ہے
یہ محض پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک بڑا اخلاقی سوال ہے۔ کیا ایک ادارہ اپنے ان بزرگوں کو بھول سکتا ہے جنہوں نے اسے بنایا؟ حل اب بھی ممکن ہے اگر نیت ہو
پنشن کو مہنگائی کے اشاریوں کے ساتھ جوڑا جائے، ایمرجنسی میں فوری علاج کی غیر مشروط سہولت دی جائے اور سنگین بیماریوں کے لیے سالانہ حد کو ختم کر کے مکمل علاج فراہم کیا جائے
جب کسی ادارے کے بزرگ خاموشی سے تکلیف سہتے ہیں، تو یہ صرف افراد کی نہیں بلکہ پورے نظام کی اخلاقی گراوٹ کا ثبوت ہوتا ہے۔ کیا کوئی ہے جو اس خاموش احتجاج کی پکار سن سکے؟
تعارف: محبوب الہیٰ سینئر مزدور رہنما اور مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کراچی کے صدر ہیں وہ طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ زیرِ بالا کالم میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش سنگین معاشی اور طبی مسائل کی نشاندہی کی ہے، جو برسوں کی خدمت کے باوجود آج حکومتی اور انتظامی بے حسی کا شکار ہیں
