پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
محنت کش کا حق بیوروکریسی کی نذر
عمران علی
————–
پاکستان کی معیشت جس بنیاد پر کھڑی ہے اس کا اصل ستون وہ محنت کش طبقہ ہے جو کارخانوں کی تپش کانوں کی تاریکی اور تعمیراتی ڈھانچوں کی بلندیوں پر اپنا خون پسینہ ایک کر کے ملکی پیداوار کا پہیہ چلاتا ہے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ جس مزدور کے دم سے ملک کا معاشی ڈھانچہ قائم ہے اسی کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گئے ادارے اور اسکیمیں آج خود شدید بحران، انتظامی نااہلی اور بدعنوانی کا شکار ہو کر اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔
پاکستان میں ورکرز ویلفیئر فنڈ ، سوشل سیکیورٹی اور ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن جیسے ادارے اس مقصد کے لیے قائم کیے گئے تھے کہ وہ مزدور کو بڑھاپے میں سہارا، بیماری میں علاج اور اس کے بچوں کو تعلیم و رہائش کی سہولیات فراہم کریں مگر آج یہ ادارے اپنے بنیادی مقاصد سے ہٹ کر محض کاغذی کارروائیوں اور پیچیدہ بیوروکریٹک نظام کا گورکھ دھندا بن چکے ہیں
ایک عام مزدورجو سارا دن مشقت کر کے تھک جاتا ہے، جب اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے ان دفاتر کا رخ کرتا ہے، تو اسے ایک ایسے طویل اور تھکا دینے والے سفر پر ڈال دیا جاتا ہے جس کی کوئی منزل نظر نہیں آتی، درخواستیں جمع کروانے کے بعد مہینوں اور سالوں تک شنوائی نہ ہونا اور عملے کا غیر سنجیدہ رویہ اس نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس تمام بحران کی جڑ صرف مالی کمی نہیں بلکہ ان اداروں کے گورننگ بورڈز اور پالیسی سازی کے عمل میں حقیقی مزدور نمائندگی کا فقدان ہے۔ اکثر بورڈز میں ایسے افراد کو بٹھا دیا جاتا ہے جن کا مزدور طبقے کی زندگی اور ان کی روزمرہ کی مشکلات سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا
جب تک پالیسی بنانے والوں میں وہ شخص شامل نہیں ہوگا جو خود فیکٹری کی زمین پر کھڑا ہو کر کام کرتا ہے تب تک فیصلے مزدوروں کی اصل ضروریات کے مطابق نہیں ہو سکتے۔ موجودہ نظام میں نمائندگی محض رسمی اور علامتی حد تک محدود ہے، جس کے نتیجے میں بیوروکریسی اور مفاداتی گروہ ان فنڈز پر قابض نظر آتے ہیں جو صرف اور صرف محنت کشوں کی امانت ہیں
شفافیت کا فقدان اس المیے کا دوسرا بڑا پہلو ہے۔ مزدوروں کے نام پر جمع ہونے والے اربوں روپے کے فنڈز کہاں اور کیسے خرچ ہو رہے ہیں، اس کی کوئی واضح معلومات عام مزدور تک نہیں پہنچ پاتیں۔ احتساب کا مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے بدعنوانی کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے
صحت کے شعبے میں مزدوروں کے لیے مختص ہسپتالوں کی حالتِ زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں؛ وہاں ادویات کی قلت، عملے کی غیر حاضری اور سہولیات کا فقدان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ محنت کش کی زندگی کی قیمت ان اداروں کی نظر میں بہت کم ہے
اسی طرح تعلیمی اسکالرشپس ہوں یا رہائشی منصوبے، ہر جگہ سفارش اور رشوت کا کلچر حاوی ہے۔ مزدور کا بچہ تعلیم سے محروم رہ جاتا ہے کیونکہ اسے اسکالرشپ کے حصول کے لیے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، وہ ایک غریب خاندان کے بس کی بات نہیں۔ یہ صورتحال اب برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے
حکومت کو چاہیے کہ وہ محض بیانات اور کھوکھلے اعلانات کے بجائے ان اداروں کے ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لائے۔ جب تک ان فلاحی اداروں میں مزدوروں کی حقیقی اور بااختیار نمائندگی یقینی نہیں بنائی جاتی اور نظام کو ڈیجیٹلائز کر کے شفاف نہیں کیا جاتا، تب تک محنت کش کا استحصال ختم نہیں ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ محنت کش کی امانت اسے واپس کی جائے اور ان فلاحی اسکیموں کو بیوروکریسی کے چنگل سے آزاد کرایا جائے
