April 17, 2026

مہنگا پیٹرول، سستا مزدور

 مہنگا پیٹرول، سستا مزدور

صمیم طارق

—————

پاکستان کی معاشی تاریخ میں 2 اپریل 2026 کا دن ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو جواز بنا کر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو ہوش ربا اضافہ کیا ہے

اس نے ملک کے محنت کش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 40 فیصد اور ڈیزل میں 50 فیصد سے زائد کا یہ اضافہ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ یہ اس غریب مزدور کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے جو پہلے ہی سسکتی ہوئی معیشت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ اس فیصلے نے شہرِ قائد کے لاکھوں محنت کشوں کے لیے دو وقت کی روٹی کے حصول کو ایک ناپید خواب بنا دیا ہے

کراچی جیسے وسیع اور پھیلے ہوئے شہر میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام پہلے ہی دم توڑ چکا ہے اور حکومتی سطح پر کوئی منظم سفری سہولت میسر نہیں، وہاں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر پڑا ہے۔ کرایوں میں 30 فیصد تک کے حالیہ اضافے نے اس دیہاڑی دار مزدور کو ایک ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے

جو روزانہ بمشکل 1200 سے 1500 روپے کماتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس کی محنت کا ایک بڑا حصہ صرف کام کی جگہ تک پہنچنے اور گھر واپسی کے کرایوں کی نذر ہو رہا ہے۔ جب سفر ہی اتنا مہنگا ہو جائے کہ شام کو گھر لے جانے کے لیے بچنے والی رقم آٹے اور دال کے لیے ناکافی ہو، تو محنت کش کے پاس کام پر جانے یا فاقہ کرنے کے سوا کیا انتخاب بچتا ہے؟

اس معاشی قتلِ عام کی لپیٹ میں صرف فیکٹری ورکر ہی نہیں، بلکہ وہ اسٹریٹ وینڈرز، ریڑھی بان اور گھروں میں بیٹھ کر سلائی کڑھائی یا پیکنگ کا کام کرنے والی خواتین بھی آئی ہیں جن کے لیے خام مال کی ترسیل کے اخراجات دوگنا ہو چکے ہیں۔

جب مال لانا اور تیار شدہ اشیاء مارکیٹ تک پہنچانا مہنگا ہو جائے تو ان کا منافع ختم اور آمدن سکڑ کر رہ جاتی ہے۔ دوسری طرف، شہر میں دودھ کی قیمت 240 روپے فی لیٹر تک پہنچنا اور سبزیوں کی قیمتوں میں آگ لگنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی کا یہ طوفان اب کسی کے قابو میں نہیں رہا۔ٓ

کراچی کے بڑے صنعتی علاقوں بشمول سائٹ، کورنگی، اور بن قاسم میں صورتحال مزید ابتر اور تشویشناک ہے۔ پیداواری لاگت میں ہونے والے اضافے کا سارا بوجھ نہایت چالاکی سے غریب ورکر کے کندھوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

صنعتکار اپنے منافع کو بچانے کے لیے سب سے پہلے کاسٹ کٹنگ کا سہارا لیتے ہیں جس کا نشانہ وہ ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین بنتے ہیں جنہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ سرکاری دستاویزات میں کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر ہے

مگر اس آسمان چھوتی مہنگائی بجلی کے بھاری بلوں اور کرایوں کے تناظر میں یہ رقم ایک متوسط گھرانے کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی قطعی ناکافی ہے۔

حکومت کی جانب سے دیے جانے والے محدود ریلیف اقدامات زمینی حقائق سے کوسوں دور اور زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ جب تک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو لگام نہیں دی جاتی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اور مربوط پالیسی وضع نہیں کی جاتی تب تک محنت کش یونہی پستا رہے گا

وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مزدور تنظیمیں اور لیبر فیڈریشنز اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر متحد ہوں اور اجرتوں پر نظرِ ثانی کے لیے ایک توانا آواز اٹھائیں

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کراچی کا وہ مزدور جو ملکی معیشت کا پہیہ چلاتا ہے، اگر آج وہ خود زندگی کی دوڑ میں پیچھے چھوٹ گیا، تو یہ معاشی بحران محض فیکٹریوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک بڑے سماجی دھماکے کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کی تپش سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا

تعارف : صمیم طارق کا شمار کراچی کے متحرک مزدور رہنماؤں میں ہوتا ہے، جو خاص طور پر ملی لیبر فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں نمایاں ہیں۔ ان کی شناخت ایک ایسے نقاد اور تجزیہ نگار کی ہے جو لیبر قوانین اور ان کے زمینی حقائق کے درمیان موجود فرق کو اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp