پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
مہنگا پیٹرول اور معاشی طوفان
عارف روہیلہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافہ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں، بلکہ ایک ایسا معاشی طوفان ہے جو ملک کے غریب اور متوسط طبقے کی زندگیوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گا۔
جب پٹرول اور ڈیزل بلند ترین سطح سے تجاوز کر جائے، تو یہ صرف ایندھن نہیں رہتا بلکہ ہر گھر کے چولہے، ہر مزدور کی دیہاڑی اور ہر شہری کی سانسوں پر ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔
ایندھن کسی بھی معیشت کی رگوں میں دوڑنے والے خون کی مانند ہوتا ہے۔ جیسے ہی اس کی قیمت بڑھتی ہے، اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر پڑتا ہے
پاکستان جیسے ملک میں جہاں مال برداری کا بڑا انحصار سڑکوں پر ہے، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ آٹا، دال، سبزی اور دودھ سمیت ہر بنیادی ضرورت کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیتا ہے یہ ایک ایسا زنجیری ردعمل ہے جس کا آغاز پمپ سے ہوتا ہے اور اختتام غریب کی خالی تھالی پر ہوتی ہے
اس معاشی سونامی کا سب سے پہلا اور بڑا شکار وہ دیہاڑی دار مزدور ہے جو صبح اس امید پر گھر سے نکلتا ہے کہ شام کو بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی لے کر لوٹے گا
اب اس کے لیے کام پر جانے کا سفر ہی ایک عیاشی بن چکا ہے بسوں اور ویگنوں کے کرایوں میں اضافے کے بعد، ایک عام مزدور کی آدھی کمائی صرف کرایوں کی نذر ہو جائے گی
دوسری جانب زرعی شعبہ جو ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس اضافے سے بری طرح متاثر ہوگا۔ کسان کے لیے ٹریکٹر چلانا، ٹیوب ویل سے پانی نکالنا اور فصل کو منڈی تک پہنچانا اب خسارے کا سودا بنتا جا رہا ہے
ڈیزل کی قیمت میں اس کمر توڑ اضافے کے نتیجے میں خوراک کا ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے، جو شہروں سے لے کر دیہاتوں تک ہر جگہ مایوسی پھیلائے گا
پاکستان کی صنعتیں پہلے ہی بجلی اور گیس کے مہنگے ٹیرف کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ اب خام مال کی ترسیل مہنگی ہونے سے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھ جائے گی کہ کئی چھوٹے کارخانے بند ہونے کا خدشہ ہے
اس کا براہِ راست نتیجہ بے روزگاری کی صورت میں نکلے گا، جو معاشرے میں جرائم اور عدم استحکام کو ہوا دے سکتا ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے میں ناکام ہوتا ہے، تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال محض معاشی نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی بحران ہے۔
اشرافیہ کی قربانی یا عوام کا امتحان؟ حکومت کے لیے یہ فیصلہ شاید بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ یا معاشی مجبوری کا نتیجہ ہو، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بوجھ کو بانٹنے کے لیے اشرافیہ نے بھی کوئی قربانی دی؟
کیا سرکاری پروٹوکول، مفت پٹرول اور شاہانہ اخراجات میں کوئی کمی آئی؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب قربانی صرف غریب سے مانگی جائے اور مراعات یافتہ طبقہ مستثنیٰ رہے تو عوام میں غصہ اور بے چینی ایک چنگاری کی طرح پھیلتی ہے جو احتجاج اور انتشار کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے
پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر معیشت کو بچانا ہے تو پہلے عوام کو زندہ رکھنا ہوگا۔ یہ وقت صرف اعداد و شمار درست کرنے کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کو معاشی سسکیاں لینے سے بچانے کا ہے۔
اگر فوری طور پر ریلیف پیکج اور منصفانہ معاشی نظام وضع نہ کیا گیا، تو یہ بڑھتی ہوئی مہنگائی صرف جیبوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دے گی۔ یہ فیصلہ اب حکمرانوں کو کرنا ہے کہ وہ اصلاح کا راستہ چنتے ہیں یا انتشار کا
تعارف: عارف روہیلہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور مختلف فورمز پر مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی پہچان صنعتی تعلقات، لیبر قوانین کی پاسداری اور محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی انتھک اور اصولی جدوجہد ہے۔
