اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
ای او بی آئی کے قیام کے 50 سال مکمل، پنشنرز کا تحفظ اب بھی ایک بڑا سوال
امجد اللہ خان
ٹھیک 50 سال پہلے قائدِ عوام ذولفقار علی بھٹو کی منتخب عوامی حکومت نے ملک کے مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا تھا
یہ اقدام ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن ای او بی آئی کا قیام تھا، جس کا بنیادی مقصد محنت کش طبقے کو ان کے بڑھاپے میں معاشی سیکیورٹی فراہم کرنا تھا تاکہ وہ عمر کے آخری حصے میں کسی کے محتاج نہ رہیں
لیکن افسوس کہ اس فلاحی سفر کو شروع ہوئے ابھی چند ہی ماہ گزرے تھے کہ 5 جولائی 1977 کو ملک میں فوجی مداخلت کے نتیجے میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا
اس سیاسی تبدیلی اور اسمبلیوں کی تحلیل نے نہ صرف ملک کا رخ موڑا بلکہ ای او بی آئی سمیت دیگر تمام عوامی فلاحی پالیسیوں کی رفتار اور اصل سمت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
آج اس ادارے کے قیام کو نصف صدی مکمل ہو چکی ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ اس طویل عرصے کے بعد بھی پاکستان کے لاکھوں پنشنرز انتہائی قلیل اور نام نہاد پنشن پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو موجودہ بدترین مہنگائی کے دور میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے
بوڑھے محنت کشوں کی یہ حالتِ زار اس مروجہ نظام اور حکمرانوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گزشتہ 50 سالوں میں اس اہم فلاحی ادارے کو وہ توجہ، مالی وسائل اور انتظامی خودمختاری فراہم کی گئی جس کا خواب اس کے قیام کے وقت دیکھا گیا تھا؟
کیا یہ ادارہ واقعی محنت کشوں کو ایک باوقار معاشی تحفظ دینے میں کامیاب ہو سکا ہے؟
ای او بی آئی کی یہ گولڈن جوبلی محض روایتی جشن منانے یا تقریبات سجانے کا موقع نہیں ہے، بلکہ یہ وقت کے حکمرانوں، مقتدر حلقوں اور خود ادارے کے لیے گہری خود احتسابی کا لمحہ ہے
اس پچاس سالہ سفر کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیوروکریسی کی عدم توجہی اور فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم نے اس فلاحی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
آج کا بوڑھا مزدور دوائیوں اور راشن کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے، جو کہ اس ریاستی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ای او بی آئی میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی جائیں، تاجروں اور صنعت کاروں کے تعاون سے فنڈز کا حجم بڑھایا جائے
اورپنشن کو مستقل بنیادوں پر مہنگائی کے اشاریوں سے جوڑا جائے۔ جب تک محنت کش کو بڑھاپے میں باوقار زندگی کی ضمانت نہیں ملتی، تب تک کوئی بھی معاشی ترقی کھوکھلی رہے گی۔
اب یہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے کہ روایتی بیانات سے ہٹ کر اس ادارے کو ڈھانچہ جاتی طور پر مضبوط، کرپشن سے پاک اور مکمل شفاف بنایا جائے
جب تک ای او بی آئی کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے اس کے فنڈز کو درست جگہوں پر سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، تب تک پنشنرز کو ان کا حقیقی حق نہیں مل سکے گا
حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر پنشن کی رقم کو موجودہ دور کے تقاضوں اور کم از کم اجرت کے مطابق بڑھائے تاکہ یہ ادارہ اپنے اصل مقصد کے تحت معوجہ پنشنرز کا حقیقی اور معتبر سہارا بن سکے۔
تعارف: امجد اللہ خان ملی لیبر فیڈریشن کراچی کے جنرل سیکریٹری ہیں اور طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں صفِ اول میں رہے ہیں ، اپنی تحریروں اور کالموں کے ذریعے وہ نہ صرف مزدوروں کے مسائل کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں ان کا کالم سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف ایک توانا آواز سمجھا جاتا ہے
