June 1, 2026

مہنگائی کا طوفان اور محنت کش کی سسکتی زندگی

 مہنگائی کا طوفان اور محنت کش کی سسکتی زندگی

تحریر (  اسلم ملک، ڈویژنل آرگنائزر پریم یونین سی بی اے کراچی ڈویژن) آج کا دور مزدور طبقے کے لیے کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پستا ہوا محنت کش اس وقت ایک ایسے بوجھ تلے دب چکا ہے جہاں اس کی صرف کمر ہی نہیں بلکہ مستقبل سے جڑی تمام امیدیں بھی ٹوٹتی دکھائی دے رہی ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء، آٹا، چینی، دالیں اور گھی کی قیمتیں جس رفتار سے آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اس کے مقابلے میں مزدور کی اجرت اور تنخواہ وہیں کی وہیں کھڑی ہے۔ جب گھر کے چولہے کی آگ بجھنے لگے اور بچوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا ایک خواب بن جائے، تو ایک سفید پوش محنت کش آخر جائے تو کہاں جائے اور کس سے فریاد کرے؟

یہ ایک ناقابل تردید سچائی ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت کا پہیہ مزدور کے ہاتھوں سے ہی گھومتا ہے۔ کارخانوں کی چمنیوں سے نکلتا دھواں ہو یا ریلوے کی پٹریوں پر دوڑتی ٹرینیں، ان سب کے پیچھے اس مزدور کا پسینہ شامل ہے جو دن رات مشقت کرتا ہے۔ لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ جو ہاتھ معیشت کا پہیہ گھماتے ہیں، وہی ہاتھ آج اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی جمع کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ اگر ملک کا معمار فاقوں پر مجبور ہو جائے تو ریاست کی ترقی اور خوشحالی کے تمام دعوے کھوکھلے اور بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔

موجودہ معاشی حالات نے مزدور کی قوت خرید کو اس قدر مفلوج کر دیا ہے کہ اب وہ صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ بجلی کے بھاری بلوں اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ ایسے میں حکومت کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھنے کے بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرے۔ فوری طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے نہ صرف عملی اقدامات کیے جائیں بلکہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے ملازمین سمیت تمام صنعتی مزدوروں کے لیے مہنگائی الاؤنس کا اعلان کیا جائے تاکہ ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں اور ان کی زندگی میں کچھ آسانی پیدا ہو سکے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں مزدور کو ہمیشہ ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یاد رہے کہ جب مزدور کی صبر کی حد ختم ہوتی ہے تو معاشی ڈھانچے متزلزل ہو جاتے ہیں۔ آج وقت کی ضرورت ہے کہ محنت کش کو اس کا جائز مقام اور اجرت فراہم کی جائے تاکہ وہ وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے اور کم از کم اجرت کے فیصلے کو ہر سطح پر نافذ کرے، ورنہ مہنگائی کا یہ سیلاب صرف مزدور کو ہی نہیں بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو بہا لے جائے گا

تعارف :  اسلم ملک پاکستان ریلویز کے سب سے بڑے اور فعال محنت کشوں کے پلیٹ فارم پریم یونین سی بی اے کراچی ڈویژن کے ڈویژنل آرگنائزر ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ریلوے ملازمین کے حقوق کی بحالی اور ان کے جائز مطالبات کے لیے صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp