May 31, 2026

ایران عراق جنگ اور اس کے مزدوروں پر اثرات

 ایران عراق جنگ اور اس کے مزدوروں پر اثرات

تحریر (قاضی تحسین احمد ہاشمی)

اسلامی دنیا یا یوں کہہ لیں کہ اسلامی ممالک میں ایران اور عراق دو بڑی طاقتیں تھیں اور ان کی فوجی ان کی معاشی ان کی اقتصادی اور ثقافتی روایات بڑی گہری تھیں اور بڑی مضبوط تھیں لیکن حالات بدلتے ہی انہوں نے اپنا یہ سب کچھ کھو دیا یا داؤ پر لگا دیا

پھر کیا ہوتا ہے وہی جو کفار اسلامی ملکوں سے خوفزدہ رہتے ہیں اور سازشیں کر کے ان کو اپس میں لڑوا دیتے ہیں اور انہی کفار  نے کئی ممالک کے ساتھ ایسا کیا ان کی طاقت کو تباہ و برباد کر دیا جن میں لیبیا ہے عراق ہے شام ہے مصر ہے اور دیگر کئی ممالک ہیں اور کئی ممالک کے اندر فساد پھیلایا ہوا ہے

   عرب ممالک میں اور متحدہ عرب امارات ہے اور دیگر چھوٹے چھوٹے عرب ممالک شامل ہیں ان کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اور یہ عرب ان کفار سے خوفزدہ ہیں اور یہ کفار جو کہتے ہیں یہ وہ کرتے ہیں اور اپنے ہی برادر اسلامی ممالک کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں

کافی عرصے سے کفار ایران پر نظریں لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ایران نے بڑی مزاحمت کی اور کر رہا ہے اللہ تعالی اس کی مزاحمت کو کامیاب کرے میں جہاں پر مختصر طور پر کچھ حقائق اپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں فیصلہ اپ خود کر لیں

فروری 1979 کی بات ہے جب ایرانی عوام نے ایت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں اس وقت کے امریکہ نواز ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی کو اپنے ہی وطن سے اپنے ملک کی بادشاہت سے دستبردار کر کے اپنے ہی وطن سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا اور اسلامی  قیادت ایک ریفرنڈم کے بعد جس میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اسلام پسند قوت کے ہاتھ میں اگئی جو کہ اج تک قائم ہے

ایران کی اس اسلامی حکومت کا عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک اور برادر اسلامی ملک عراق سے ایران کے مسائل پیدا ہونے شروع ہو گئے مذہبی بنیاد پر بھی اور فرقہ کی بنیاد پر بھی چونکہ ایران اہل تشعی کا وطن مانا جاتا ہے اور عراق اہل سنت کا اور یہ اختلاف بڑھتے بڑھتے بہت زیادہ بڑھ گیا اور 1980 میں جنگ کی صورت اختیار کر گئی جو اٹھ سال تک جاری رہی اور یہ 1988 میں عراق کے صدر صدام حسین کے خاتمے کے بعد یہ جنگ ختم ہوئی

 اس جنگ نے دونوں ممالک کے لیے بڑی تباہی مچائی اس جنگ نے اگر عراق کو تباہ کیا اسی طرح ایران کا بھی بہت زیادہ نقصان کیا اور کمزور کر دیا معاشی طور پر اقتصادی طور پر ایران بھی بہت کمزور ہوا عراق تو تباہ ہو گیا 

اس کو تو چھوڑ دیں لیکن ایران کا بھی کچھ نہ بچا اج کے جو حالات ایران کے ہیں ،08 اٹھ سالہ جنگ میں جس میں ایران کی معاشرتی ماشعیاتی اقتصادی بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اسلامی  اور مذہبی اقدار کو بھی نقصان پہنچا اور کمزور ہوئیں اس طرح بہت نقصان ہوا

 یاد رکھنا چاہیے طاقت کے جبر سے تشدد سے طاقت سے اقتدار اور حکومت تو حاصل ہو جاتی ہیں لیکن حاصل شدہ حکومت کو چلانے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں حکومت کو نہیں رہنے دیتا بہت ساری دوسری چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے

عراق کے صدر صدام نے بھی شدت پسندی اور طاقت کا استعمال کر کے عوام پر حکومت کی اور یہی طریقہ ایران میں بھی رہا ایران نے اپنے مسلک کو اپنی فقہ کو اپنے نظریات کو اپنی سوچ کو لوگوں پر مسلط کرنا شروع کر دیا اور وہاں کے عوام اب اس کو اپ کہہ لیں کہ امریکہ کرا رہا ہے تو کفار تو چاہتا ہی یہی ہے وہ ہمارے کمزور پہلو تلاش کر کے اس پر وار کرتا ہے تو زور زبردستی طاقت کا استعمال عوام کبھی بھی برداشت نہیں کرتی

میں اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں اللہ تعالی ہمارے برادر اسلامی ملک ایران کا محافظ ہو اس کی عوام ترقی کرے اس کا ملک ترقی کرے اور یہ حالات کسی اچھے موڑ پر جا کر اختتام پذیر ہوں

اخر میں میں اپ کو اپنے ایک اور برادر اسلامی ملک افغانستان کی بات بتاتا جاؤں افغانستان میں کیا ہے ہم یہاں بیٹھ کے کہتے ہیں جی وہاں اسلامی حکومت ہے وہاں ان کی ذاتی اسلامی ہے یعنی طالبانی اسلامی ہے وہی زبردستی طاقت زور تشدد اس طرح نہیں ہوتا عوام بھوکے مر رہے ہیں

پاکستان سے تجارت بند کی ہوئی ہے اور جناب علی خود کو اسلامی ملک کہتے ہیں اور جا کے یہودیوں اور ہندوؤں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں تو یہ طریقے ٹھیک نہیں ہیں تو افغانستان کے کون سے حالات اچھے ہیں

اللہ تعالی ہم مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو اور اللہ تعالی ہمیں اچھے حکمران عطا فرمائے اس میں عوام کا بھی حصہ ہونا چاہیے اور عوام سے ہی یہ لوگ اتے ہیں اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو امین ثم امین یا رب العالمین

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp