May 28, 2026

جب بڑھاپا کام پر مجبور ہو اور جوانیاں بے روزگار رہ جائیں

 جب بڑھاپا کام پر مجبور ہو اور جوانیاں بے روزگار رہ جائیں

تحریر ( ایمن اکرم )

پاکستان میں روزگار کی دنیا ایک عجیب تضاد سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، تو دوسری طرف وہ لوگ جنہیں اب اپنے گھروں کی چھت پر بیٹھ کر آرام کرنا چاہیے، اب بھی صبح سویرے دفتر، فیکٹری یا کسی کمپنی کی طرف جاتے نظر آتے ہیں۔ یہ تضاد محض معاشی نہیں، سماجی اور خاندانی نظام کی گہری دراڑوں کا بھی پتا دیتا ہے۔

قیصر احمد انہی ہزاروں والدین میں سے ایک ہیں۔ 65 برس کی عمر میں بھی وہ کام کر رہے ہیں، حالانکہ بارہ سال پہلے تک ان کی زندگی ایک عام ملازم کی طرح پرسکون تھی۔ جس شپنگ کمپنی میں وہ کام کرتے تھے، جب اس نے پاکستان میں اپنے دفاتر بند کیے تو قیصر احمد بھی ایک جھٹکے میں بیروزگار ہو گئے۔ انہوں نے ایک اور ادارے میں کام شروع کیا اور پانچ برس محنت کی، پھر سوچا کہ کچھ سرمایہ کاری کر کے اب سکون سے گھر بیٹھا جائے۔ مگر وہ وقت کبھی آیا ہی نہیں۔

ان کے خیال میں اب بچوں کو تعلیم مکمل کر کے گھر کا بوجھ سنبھال لینا چاہیے تھا۔ بیٹے ایم بی اے اور بی ایس ریاضی کی ڈگریاں لے چکے ہیں، بیٹی نے بھی پڑھائی مکمل کر لی ہے۔ مگر ڈگریاں روزگار کی ضمانت کب بنی ہیں؟ بچے نوکری تلاش کرتے رہے، کوششیں ہوئیں مگر خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا۔ یوں گھر کی آمدنی آج بھی اسی شخص کی محنت پر کھڑی ہے جسے اب آرام چاہیے، نہ کہ دوسرا روزگار۔

قیصر احمد کہتے ہیں کہ ان کی محدود سرمایہ کاری گھر کا خرچ نہیں اٹھا سکتی۔ مہنگائی نے بچت کا تصور کھوکھلا کر دیا ہے اور بچوں کے بےروزگار ہونے کی وجہ سے وہ اس عمر میں بھی خود کو کام پر جانے پر مجبور پاتے ہیں۔ یہ صرف ایک گھر کی داستان نہیں، یہ پاکستان بھر کی گلیوں اور گھروں کی حقیقت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ لیبر فورس سروے میں انکشاف ہوا کہ 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح سب سے کم ہے، جبکہ 20 سے 30 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری سب سے زیادہ ہے۔ یعنی جو لوگ کام چھوڑنے کی عمر میں ہیں، وہ کام پر ہیں؛ اور جنہیں کام کرنا چاہیے، انہیں کام نہیں مل رہا۔ معاشی ماہرین اسے “انفلیشن ایڈجسٹمنٹ رئیل انکم” کہتے ہیں، یعنی بڑھتی مہنگائی کے ساتھ آمدن حقیقت میں کم ہوتی جاتی ہے، اس لیے بوڑھے والدین ریٹائر نہیں ہو پاتے۔

دوسری طرف راجہ کامران جیسے تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد بھی روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔ میڈیا اور پبلک ریلیشنز میں دو دہائیوں کا تجربہ رکھنے کے باوجود وہ اس وقت بےروزگار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا انڈسٹری میں نوکریاں تو ہیں، مگر تنخواہیں نہ ہونے کے برابر اور ادائیگی مہینوں تاخیر سے ہوتی ہے۔ وہ خود کو اس مقام پر پاتے ہیں جہاں کام کرنے کی صلاحیت بھی ہے، تجربہ بھی ہے، مگر مواقع ویسے ہی کم ہیں جیسے کسی نئے گریجویٹ کے لیے۔

یہ مسائل محض انفرادی کہانیاں نہیں، بلکہ ایک بڑے معاشی بحران کا حصہ ہیں۔ ہمارے یہاں نوجوانوں کی ڈگریاں بڑھتی جا رہی ہیں مگر مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب مڈل کلاس کے والدین کیلئے ریٹائرمنٹ ایک عیاشی بن چکی ہے۔ مہنگائی، کم آمدنی، بے روزگاری اور سوشل سکیورٹی کا نہ ہونا والدین کو اس عمر تک دھکیل رہا ہے جہاں انہیں آرام چاہیے تھا، مگر وہ اپنے بچوں کے لیے پھر سے کمر باندھ لیتے ہیں۔

پاکستان میں یہ سوال اب سنگین شکل اختیار کر چکا ہے کہ آخر کب تک بوڑھے کام کرتے رہیں گے اور نوجوان دروازوں پر دستک دیتے رہیں گے؟ کب تک تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ’’تجربہ نہیں‘‘ کہہ کر واپس بھیجا جائے گا اور تجربہ کار افراد کو ’’تنخواہ زیادہ‘‘ کہہ کر؟ کب ہم ایک ایسا معاشی ڈھانچہ کھڑا کر پائیں گے جہاں دونوں نسلیں محفوظ ہوں—ایک بڑھاپے میں اور دوسری جوانی میں؟

قیصر احمد اور راجہ کامران کی کہانیاں پاکستان کے ہر متوسط گھر کی کہانی ہیں۔ ایک نسل بڑھاپے میں بھی بے یقینی کا بوجھ اٹھا رہی ہے، جبکہ دوسری جوانی میں بے روزگاری کے اندھیروں سے لڑ رہی ہے۔ اس تضاد کو ختم کیے بغیر نہ گھروں میں سکون آئے گا، نہ معاشرے میں۔

یہ سوال اب بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے
ریٹائر کس نے ہونا ہے؟

والدین نے یا نظام نے؟

تعارف : ایمن اکرم صحافی ، کالم نگار ہیں دنیا اور پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کے لیئے سیاسی، سماجی، صحافتی سطح پر عملی کردار ادا کررہی ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp