دنیا بھر میں 3 کروڑ 80 لاکھ محنت کشوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ، آئی ایل او کا انتباہ
جنیوا( لیبر نیوز فارن ڈیسک ) عالمی ادارہ محنت نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی ایشیا مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور کشیدگی کا سلسلہ برقرار رہا تو عالمی معیشت اور روزگار کے بازار کو شدید نقصان پہنچے گا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ کل وقتی ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں جس سے محنت کشوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس تنازع کے باعث سپلائی چین میں پیدا ہونے والے تعطل اور توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی
آئی ایل او کے مطابق اگر جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک کا بڑا اضافہ ہوتا ہے، تو اس کا براہِ راست اثر عالمی لیبر مارکیٹ پر پڑے گا، جس سے رواں برس اور آئندہ سال کے دوران کروڑوں محنت کش بے روزگار ہو جائیں گے
اس بحران سے ملازمین کی حقیقی اجرتوں میں بھی عالمی سطح پر اوسطاً 3 فیصد تک کمی واقع ہوگی۔ ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ اس بدترین معاشی صورتحال سے سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک اور جنوبی ایشیا کے وہ تارکینِ وطن مزدور متاثر ہوں گے جو خلیجی ممالک میں برسرِروزگار ہیں
