نمک کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کسٹمز اور صنعتی نمائندوں میں اتفاق
پاکستان ریلوے کا پٹریوں پر بکھرتا اعتماد
تحریر (شیخ محمد انور ) پاکستان کی پٹریوں پر دوڑتی ہوئی ریل گاڑیاں محض مسافروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ اس قوم کی امیدوں خوابوں اور باہمی اعتماد کی علامت ہیں۔
لیکن حالیہ برسوں میں یہی پٹریاں ایک ایسے سوالیہ نشان میں بدل چکی ہیں جو ہر نئے حادثے کے ساتھ مزید گہرا اور تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے: آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟
گزشتہ ایک سال کے دوران ریلوے کے پے در پے حادثات نے نہ صرف درجنوں قیمتی جانیں نگل لیں بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے المیہ یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد روایتی بیانات، چند اہلکاروں کی وقتی معطلی اور انکوائری کمیٹیوں کے وعدے تو سامنے آتے ہیں
مگر عملی طور پر کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی انسپکٹر آف ریلوے کی تیار کردہ تحقیقی رپورٹیں اور ان کی سفارشات آخر کیوں فائلوں کی دھول چاٹتی رہ جاتی ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ان حادثات کو محض تکنیکی خرابی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ دراصل پورے نظام کی ناکامی اور اس غفلت کا تسلسل ہے جس کا تدارک کرنے میں ہم مسلسل ناکام رہے ہیں
جب تک احتساب کا عمل شفاف اور بلاامتیاز نہیں ہوگا، ریلوے کی بہتری ایک خواب ہی رہے گی۔ ایک حادثہ اگر غفلت ہے، تو دوسرا اسی غفلت کا مجرمانہ تسلسل ہے
موجودہ سنگین صورتحال کے پیشِ نظر، وزیرِ اعظم شہباز شریف سے یہ مطالبہ وقت کی ضرورت ہے کہ ریلوے حادثات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور بااختیار عدالتی کمیشن قائم کیا جائے
یہ کمیشن نہ صرف ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے، بلکہ ایک ایسا خودکار نظام وضع کرے جہاں ہر انکوائری رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جائے اور سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ریلوے محض ایک سرکاری ادارہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا نام ہے۔ اگر یہ اعتماد ٹوٹ گیا تو صرف پٹریاں ہی نہیں بلکہ قوم کا حوصلہ بھی بکھر جائے گا
آج ہر شہری اور ریلوے ملازم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کیا انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ اب وقت آ چکا ہے کہ خاموشی توڑی جائے ذمہ داری قبول کی جائے اور ایک ایسا نظام بنایا جائے جہاں غفلت کی کوئی گنجائش نہ ہو
اگر آج ریلوے کا احتساب نہ ہوا تو کل کا پچھتاوا کسی کام نہیں آئے گا
تعارف : شیخ محمد انور پاکستان ریلوے کی طاقتور ترین نمائندہ تنظیم پریم یونین کے مرکزی صدر اور صفِ اول کے سینئر مزدور رہنما ہیں، جو دہائیوں سے ریلوے محنت کشوں کے حقوق کی نظریاتی و عملی جدوجہد کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں، ایک صاحبِ طرز ادیب اور دانشور کے طور پر وہ اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف ریلوے کے انتظامی بحرانوں کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ مزدور تحریک میں فکری شعور بیدار کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔
