ٹیکسٹائل برآمدات کو خطرہ اپٹما کا ٹاسک فورس کا مطالبہ
کراچی ( لیبر نیوز کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ٹیکسٹائل کے نمائندہ ادارے اپٹما نے بندرگاہوں اور کسٹمز پر درپیش سنگین رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تیس دنوں کے اندر ایک ہنگامی ٹاسک فورس قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر کو لکھے گئے خط میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے خبردار کیا ہے کہ بندرگاہوں پر سامان کی کلیئرنس میں غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے برآمد کنندگان کو عالمی سطح پر آرڈرز کا نقصان ہو رہا ہے جس سے ملکی معیشت اور لاکھوں مزدوروں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کسٹمز کلیئرنس کا اوسط وقت دس دن تک پہنچ چکا ہے جبکہ عالمی معیار صرف دو سے تین دن ہے۔ اپٹما نے نشاندہی کی ہے کہ اسکیننگ کے پیچیدہ عمل، انسانی مداخلت، اور ٹرمینلز پر آلات کی کمی کی وجہ سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ٹیکسٹائل کا شعبہ ملکی برآمدات کے ساٹھ فیصد حصے پر مشتمل ہے اور اس سے ڈیڑھ کروڑ سے زائد محنت کش وابستہ ہیں۔ ایسوسی ایشن نے زور دیا ہے کہ اگر فوری طور پر کسٹمز قوانین اور بندرگاہوں کے آپریشنز میں اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کو بنگلہ دیش اور بھارت جیسے حریف ممالک کے ہاتھوں اپنے برآمدی آرڈرز مستقل طور پر گنوانے پڑ سکتے ہیں۔
