May 29, 2026

قومی مزدور طبقاتی پارٹی کی تعمیر

 قومی مزدور طبقاتی پارٹی کی تعمیر

تحریر ( عمر وارث ) پاکستان کی جغرافیائی اور سماجی ساخت ایک ایسے رنگا رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں بے شمار نسلیں، زبانیں اور مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنی اپنی پہچان کے ساتھ موجود ہیں۔ اس تنوع کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان مقامی رسم و رواج اور نظریات کے اندر چھپی تلخیوں اور مٹھاس کو سمجھنے کی کوشش کی؟

جب ایک معاشرہ اتنا مخلوط ہو، تو وہاں سیاسی آبیاری کا اصول بھی فطرت کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ جس طرح ایک دریا اپنی روانی میں بے شمار مقامی چشموں کو ان کی خوشبو اور سمت مٹائے بغیر اپنے اندر سمو لیتا ہے، ایک حقیقی قومی طبقاتی پارٹی کو بھی اسی طرح تمام اکائیوں کو ایک مرکزی وفاقیت میں جوڑنا ہوتا ہے۔

عالمی اور قومی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ایسی “کنٹینر پارٹیز” کی مثالیں جابجا ملتی ہیں:

انڈین نیشنل کانگریس (1885): یہ اس خطے کی پہلی جماعت تھی جس نے بنگال کے انقلابی نیٹ ورکس، مدراس مہاجن سبھا، اکالی دل کی ابتدائی سیاست اور مسلم قوم پرست علماء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔

افریقی نیشنل کانگریس: نیلسن منڈیلا کی قیادت میں اس جماعت نے 1912 سے تمام نسلوں اور رنگ دار برادریوں کو ایک قومی افق پر متحد کیا۔

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ: ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 70 کی دہائی میں سندھی ہاریوں، سرائیکی کسانوں اور بلوچستان کے ترقی پسند دھڑوں کو ان کی اپنی شناخت کے ساتھ ایک لڑی میں پرویا۔ اسی طرح تحریک انصاف نے “کرپشن کے خلاف جنگ” کے نام پر مختلف لسانی اور علاقائی اکائیوں (جیسے چوہدری وقاص اکرم، شیخ رشید اور سوات سے پرویز خٹک) کا ایک جیتا جاگتا بازار تشکیل دیا۔

مستقبل کی کسی بھی حقیقی عوامی پارٹی کے لیے تین بنیادی نکات پر سمجھوتہ کرنا اسے اشرافیہ کا نوالہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے درج ذیل شرائط ناگزیر ہیں:

طبقاتی شناخت: ہماری پارٹی 90 فیصد محروم طبقے مزدور، کسان، غریب طلبہ ی نمائندہ ہوگی۔ وہ اشرافیہ جس نے نسلوں سے محروم طبقے کا استحصال کیا، اس کا اس پروگرام سے کوئی لینا دینا نہیں۔

عوامی جمہوری ڈھانچہ: پارٹی نسلی، لسانی یا مذہبی تفریق پر یقین نہیں رکھتی۔ ہم چھوٹی قومیتوں کے حقِ خود ارادیت اور یونین کونسل کی سطح پر مکمل مالیاتی و انتظامی اختیارات کی منتقلی کے علمبردار ہیں۔

داخلی معیشت کی تعمیر: 2026 کے اس کڑے وقت میں، جہاں ہمارا بجٹ قرضوں اور سود کی نذر ہو رہا ہے، ہمیں ایک ایسی داخلی معیشت بنانی ہے جو عالمی مالیاتی اداروں کے بجائے مقامی آبادی کی ضرورتوں (تعلیم، صحت، روزگار) کو پورا کرے۔

ہمیں اپنی 28 کروڑ آبادی کو بھوک، افلاس اور بیماری کے تاریک خانوں سے نکالنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک ایسی طبقاتی پارٹی کی ضرورت ہے جس کا پروگرام واضح ہو اور جس کی قیادت ورکروں کے کڑے احتسابی سائے تلے ہو، تاکہ ملکی تعمیر و ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp