May 31, 2026

مزدور کی دہائی اور شکستہ نظام

 مزدور کی دہائی اور شکستہ نظام

تحریر ( بشریٰ خالق ) ہر اس شخص کو سلام جو محنت مزدوری کرتا ہے یہ مزدوری ہاتھ سے ہو یا قلم سے نالج بیسڈ ہو یا گھریلو ملازمت معاشرے کی تشکیل اور تعمیر و ترقی میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے جو قابل ستائش ہے میرے نزدیک وہ مزدور توجہ طلب ہیں جو کام زیادہ کرتے ہیں

مگر خود ان کی زندگی خوشحال نہیں ہے اس وقت کروڑوں مزدور بے چین ہیں جن کی عزت نفس مجروح ہو رہی ہے ان کی اجرت اتنی نہیں ہے کہ ان کی زندگی میں خوشحالی آسکے وہ اپنے خاندان کی کفالت بہتر انداز میں کر سکیں

افسوس ہے کہ مزدور کو اس کی محنت کا پھل نہیں مل رہا اس میں نظام کی خرابیاں ہیں ریاست کی کمزوریاں ہیں اور پھر ہمارا اپنا کردار بھی ہے ہم نے مزدور کے استحصال کی روش اپنا لی ہے اور اسے وہ بنیادی حقوق بھی نہیں دے رہے جس کی گارنٹی آئین پاکستان دیتا ہے اس سب کے باوجود یہ خوش آئند ہے کہ مزدور ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور آج بھی اٹھا رہے ہیں

 وہ مزدور جو سسٹم کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے خراج تحسین کے مستحق ہیں اس کا آغاز اور سہرا شکاگو کے مزدوروں کو جاتا ہے جن کی یاد میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور جن کی بدولت آج مزدوروں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں اگرچہ بہت سارے مسائل ہیں جن کا حل ہونا باقی ہے

ان کی نشاندہی ہو رہی ہے اور پرزور مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں ہمارے ہاں صنعتی مزدوروں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر پھر بھی پاکستان صنعتی ملک نہیں بن سکا ہم نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی دیگر شعبوں کی طرح یہ بھی نظر انداز رہا اور غلط پالیسیوں کا شکار ہوتا رہا ہماری خواتین کی ایک بڑی تعداد صنعتوں سے وابستہ ہے

 مگر ان کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے حالات خراب ہیں حفاظتی انتظامات نہیں ہیں ان کی جان اور صحت کو خطرہ ہے جو افسوسناک ہے حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے مزدور مشین نہیں انسان ہے جسے سکون بھی چاہیے لہٰذا 8 گھنٹے کام 8 گھنٹے آرام اور 8 گھنٹے گھر و زندگی کے دیگر معاملات مگر افسوس ہے کہ مزدوروں سے بہت زیادہ وقت کام لیا جاتا ہے جس سے ان کی زندگی متاثر ہو رہی ہے ہم نے ریاست سیاست اور معیشت میں مزدور کی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا اسے پہچان نہیں دی اسے تحفظ نہیں دیا ایک خلا ہے جو ریاست اور مزدور کے درمیان ہے اسے پر کرنا ہوگا

ہمارے ہاں چائلڈ لیبر ہو رہی ہے مہنگائی کے دور میں اس میں مزید اضافہ ہوا ہے اس کی روک تھام کے لیے قانون ساز اداروں کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے اس حوالے سے ریاست لوگوں کو آگاہی پیغام دے ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 میں بنا مگر آج تک اس کے رولز آف بزنس نہیں بن سکے 4 برس سے زائد ہو گئے ورکرز کے مسائل زیادہ ہو گئے مگر ان کو تحفظ نہ مل سکا اس پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے

 اگرچہ اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے تاہم اس پر کام کر کے لوگوں کو آگاہی دی جائے اور ورکرز کو تحفظ دیا جائے ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ کے باوجود یہ غیر محفوظ لیبر ہے اسے سوشل سیکیورٹی و دیگر حقوق بھی حاصل نہیں اس پر توجہ دینا ہوگی ڈومیسٹک ورکرز ویلفیئر فنڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن قابل ستائش ہیں

مگر یہ سب اس ایکٹ کے قانون بننے کے بعد ہوگا ڈومیسٹک ورکرز نے خود کو منظم کرنا شروع کر دیا ہے یہ ایکٹ ان کے لیے حوصلہ افزا ہے اگر ڈومیسٹک ورکرز کی فلاح و بحالی کے لیے کام کریں تو اس سے یقینا ملک کا فائدہ ہوگا ان کی بہت بڑی تعداد ہے جو ملک میں کام کر رہی ہے مگر لیبر فورس کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے حقوق سے محروم ہے اور ملکی معیشت میں اس طرح کردار ادا نہیں کر پا رہی جس طرح ہونا چاہیے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp