زندگی بھر کی محنت منٹوں میں خاک میں مل گئی
تحریر( قاضی تحسین احمد ہاشمی)
کراچی کی پہچان گل سینٹر کاروباری حضرات جنہوں نے گل پلازہ میں اپنا کاروبار صفر سے اغاز کیا تھا ان کی زندگی بھر کی محنت اور سرمایہ ایک لمحے میں سب کی انکھوں کے سامنے راکھ کا ڈھیر بن گیا اور وہ سب دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے اس حادثہ میں مالی نقصان کے علاوہ جانی نقصان بھی ہوا مالی نقصان تو کسی نہ کسی طرح پورا ہو جاتا ہے لیکن جانوں کو کون واپس لائے گا اللہ مرحومین کی مغفرت فرمائے امین ثم امین یا رب العالمین اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے امین ثم امین یا رب العالمین
یہ بات بالکل سچ ہے کہ گل پلازہ میں ہونے والے کاروباری نقصان نے تاجر برادری کے لیے ایک قیامت صغری کا منظر پیش کیا اس سانحے سے سینکڑوں نے ہزاروں نہیں کروڑوں نہیں اربوں روپے کا نقصان ہوا اور ایک خاندان نہیں بلکہ کئی خاندانوں کا روزگار چھن گیا جن میں صرف تاجر شامل نہیں اس کے ساتھ ملک منسلک وہ تمام افراد جو اس سے روزگار حاصل کرتے تھے اور ان میں بھی کئی خاندان جن میں بل واسطہ اور بلا واسطہ ہزاروں خاندان شامل ہیں متاثر ہوئے ہیں صرف بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی کاروباری حضرات نفسیاتی طور پر بہت حساس ہوتے ہیں اور وہ اس طرح کی جگہوں پر سرمایہ لگانے سے کتراتے ہیں اس طرح کراچی میں تاجر برادری کیسے سرمایہ لائے گی جہاں پر تحفظ ہی نہ ہو لہذا یہ بات بھی بہت اہم اور سوچنے کی ہے حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے اقدامات اٹھائے کہ کاروباری حضرات اسانی سے اور محفوظ طریقے سے اپنے کاروبار کو انجام دے سکیں
کاروباری مالکان کے لیے یہ صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ سالہا سال کی قربانی، خواب اور پہچان ہے جس سے نہ صرف وہ اپنے اہل خانہ کو پالتے تھے بلکہ وہ کراچی کی ترقی اور کامیابی کے لیے بھی کوشاں تھے، یہ خبر سن کر ہر کسی کا دل بے حد دکھی ہے۔ تمام متاثرین کے لیے صبر، ہمت اور حوصلے کی دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو تسکین دے اور انہیں دوبارہ تعمیر کی طاقت عطا فرمائے اور کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے، بحالی کے لیے ایک چھوٹا سا قدم اٹھاتے ہوئے، ان کے کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے اور ان کے سفر کو ازسرنو تعمیر کرنے میں حکومت وقت اور فلاحی ادارے ان تمام تاجران کی مدد کے لیے اقدامات اٹھائیں اور ان کے کاروبار کو دوبارہ چلانے کے لیے معاونت مہیا کریں
یاد رکھیں کراچی کئی عشروں سے انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے کیونکہ کراچی میں دنیا بھر میں پہچان بنانے کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے، جو دنیا کے لیے قابل قبول نہیں۔ حتیٰ کہ ہماری کچھ اہم سیاسی جماعتیں بھی کراچی کی ترقی پر خاص توجہ نہیں دے رہیں اور وہ کراچی کے عوام کے درمیان سیاسی، مذہبی اور لسانی اور گروہی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اور اسی تقسیم کی اور اسی طرح کے فسادات سے پس پردہ وہ اپنے اپنے مفادات حاصل کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں، لہٰذا یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ گل پلازہ کا واقعہ چاہے حادثاتی ہو تخریب کاری ہو یا کوئی اور وجہ ہو اس کی اعلی سطح پر منصفانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور تحقیقات کو منظر عام پر بھی لانا چاہیے تاکہ کراچی کی ترقی کے لیے ائندہ کا صحیح عمل طے کیا جا سکے
اگ لگنے کے واقعات پیش آسکتے ہیں اور جہاں اتنی بلند و بالا بلڈنگیں ہوں وہاں تو ہر وقت اس بات کا خدشہ رہتا ہے لیکن حکومت کو بھی اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے دنیا کے جدید ترین فائر فائٹر اگ بجھانے والے عملے کی تربیت اور وہ تمام ٹیکنالوجی کراچی شہر کو مہیا کرنی چاہیے تاکہ کراچی کی لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ سے محفوظ تر بنایا جا سکے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اگ بجھانے کی راہ میں جس طرح کی رکاوٹیں پیش اتی ہیں ان کو دور کیا جائے اور جو لوگ اس طرح کے کام میں غفلت کے مرتکب پائے جائیں ان کو قرار واقع ہی سزا بھی دی جائے
