مزدور کی کمائی سے افسر شاہی کے مزے
عبدالستار نیازی
————
سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے دفاتر میں اگر آپ کا چکر لگے، تو وہاں آپ کو فائلیں دھول چاٹتی نظر آئیں گی اور ان فائلوں کے پیچھے چھپی وہ سسکیاں سنائی دیں گی جو کسی بیوہ کی ڈیتھ گرانٹ، کسی مزدور کی بیٹی کے جہیز یا کسی یتیم بچے کے تعلیمی وظیفے اسکالرشپ کی صورت میں انصاف کی منتظر ہیں
یہ ادارہ جو محنت کشوں کے خون پسینے کی کمائی سے ان کی فلاح کے لیے بنایا گیا تھا، آج بدقسمتی سے مزدوروں کی فلاح کے بجائے افسر شاہی اور مخصوص گروہوں کی عیاشیوں کا گڑھ بن چکا ہے
ڈیتھ گرانٹ محض ایک سرکاری رقم نہیں، بلکہ کسی محنت کش کی وفات کے بعد اس کے بے سہارا خاندان کے لیے ایک فوری سہارا ہوتی ہے۔
جب تمام کیسز قانونی طور پر منظور ہو چکے ہیں اور بورڈ کے پاس فنڈز بھی موجود ہیں، تو پھر ان کی ادائیگی کیوں روکی گئی ہے؟
یہ محض انتظامی تاخیر نہیں بلکہ ان خاندانوں کا معاشی قتل ہے جو پہلے ہی اپنے کفیل کو کھو چکے ہیں۔ غریب بیواؤں کو دفاتر کے دھکے کھلانا اور ان کا جائز حق روکنا اس نظام کی بے حسی کا سب سے بڑا ثبوت ہے
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو ایجوکیشن سیس کے فنڈز کا معاملہ ہے۔ دو سال تک مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ جب یہ رقم آئی بھی تو سب کو نہیں ملی سوال یہ ہے کہ اس دو سالہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟
جو رقم بینکوں میں پڑی رہی، اس پر ملنے والے انٹرسٹ سے کون مستفید ہوا؟ ایک طرف مزدور کا بچہ اسکول کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہے اور دوسری طرف ان کے حق کے پیسے پر بینکوں سے منافع کمایا جا رہا ہے۔ یہ مجرمانہ غفلت نہیں تو اور کیا ہے؟
سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کوئی ایسی فیکٹری نہیں ہے جو منافع کمانے کے لیے بنائی گئی ہو، یہ مزدوروں کا اپنا ادارہ ہے۔ مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔
بورڈ کے اندر موجود بعض کالی بھیڑیں اور مخصوص یونینز اپنے مفادات سمیٹنے میں مصروف ہیں۔ آغا خان ہسپتال سے میڈیکل کی سہولیات، حج اسکیمیں اور من مانی مراعات تو لی جا رہی ہیں،
لیکن جس مزدور کے نام پر یہ فنڈز حاصل کیے گئے، وہ آج بھی خالی ہاتھ کھڑا ہے۔ یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ادارے کے اندر اشرافیہ تو مزے کر رہی ہے، مگر اصل حقدار کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔
مزدور تحریک کے لیے ایک اور بڑا چیلنج وہ فوٹو سیشنز ہیں جو سوشل میڈیا کی زینت بنتے ہیں۔ مزدور رہنما افسران سے ملتے ہیں، مسکراتے چہروں کے ساتھ تصویریں بنتی ہیں اورخوشگوار ماحول میں ملاقات کی سرخیاں لگتی ہیں
لیکن عملی طور پر مزدور کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ یہ تصاویر پیٹ نہیں بھرتی ہیں۔ اگر واقعی سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں، تو پھر فائلیں حرکت کیوں نہیں کرتیں؟ ذاتی تشہیر کے اس کلچر نے مزدوروں کے حقیقی مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے
اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ حکومت اور ویلفیئر بورڈ کے اعلیٰ حکام تمام منظور شدہ ڈیتھ گرانٹ، اسکالرشپ اور جہیز گرانٹ کے چیک فوری جاری کیے جائیں ایجوکیشن سیس کی دو سالہ تاخیر کی تحقیقات کی جائے اور مزدوروں کے فنڈز پر حاصل شدہ منافع انہیں منتقل کیا جائے بورڈ کے تمام اخراجات کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے
محنت کش طبقہ اب کھوکھلے بیانات اور جھوٹی تسلیوں سے بہلنے والا نہیں اگر ان کا حق فوری طور پر ان کی دہلیز تک نہ پہنچایا گیا تو ہم پورے سندھ میں احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہوں گے
بیواؤں اور یتیموں کی بددعا سے ڈریں کیونکہ جب مزدور سڑکوں پر آئے گا، تو پھر کسی عہدے اور کسی پروٹوکول کی پرواہ نہیں کرے گا۔ یہ جنگ انصاف کی ہے، اور ہم اسے جیت کر رہیں گے
تعارف : عبدالستار نیازی پاکستان مزدور اتحاد ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اور مزدور تحریک کا ایک معتبر نام ہیں۔ وہ طویل عرصے سے سندھ کے صنعتی مزدوروں کے حقوق، سماجی تحفظ اور سرکاری اداروں میں موجود کرپشن کے خلاف برسرِ پیکار ہیں
