محنت کش اور نظام کی بے حسی
عارف روہیلہ
——————–
پاکستان کے سماجی اور معاشی منظرنامے کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ ایک عجیب تماشہ گاہ معلوم ہوتی ہے۔ یہاں جب کسی کارخانے کی مشین چلتی ہے، تو اس کے شور میں مزدور کی سسکتی سانسیں بھی شامل ہوتی ہیں، لیکن افسوس کہ جب منافع کا حساب کتاب لگایا جاتا ہے
تو اس میں اس انسانی ایندھن کا کہیں ذکر تک نہیں ہوتا۔ ایک مزدور صبح سے شام تک اپنا خون پسینہ ایک کرتا ہے، لیکن جب وہ تھکن سے چور گھر لوٹتا ہے، تب مزدور کی جیب میں اتنی رقم بھی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے سر اٹھا کر عزت سے گزارا کر سکے
ہم نے اپنے معاشی ڈھانچے میں مزدور کو کبھی انسان تسلیم ہی نہیں کیا، بلکہ اسے محض ایک ‘عدد’ سمجھا ہے۔ برسوں سے اصطلاحات بدل رہی ہیں، قوانین کے نام تبدیل ہو رہے ہیں
لیکن محنت کش کی حقیقت نہیں بدلی غیر یقینی روزگار، کم اجرت اور سماجی تحفظ سے محروم زندگی آج بھی پاکستانی مزدور کی بنیادی پہچان ہے
اصل المیہ یہ ہے کہ ملک کا زیادہ تر محنت کش طبقہ دستاویزی نظام سے باہر ہے۔ نہ کوئی تحریری معاہدہ ہے، نہ پنشن کی امید اور نہ ہی علاج کی سہولت۔ جس دن کام نہ ملے اس دن گھر کا چولہا بجھ جاتا ہے
قوانین تو موجود ہیں، لیکن وہ صرف دفتروں کی فائلوں اور کاغذوں کی حد تک محدود ہیں۔
حکومت کی جانب سے اکثر و بیشتر کم از کم تنخواہیں بڑھانے کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کا جن ان اعلانات سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بھاگ رہا ہے
مزدور کی آمدنی بڑھنے سے پہلے ہی مارکیٹ کی مہنگائی اسے ہڑپ کر جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا محنت کش طبقہ دن بدن معاشی طور پر کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔
اگر ہم دورِ جدید کی غلامی دیکھنا چاہیں تو ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے بھٹوں اور کھیتوں میں آج بھی قرض کی زنجیرموجود ہے ایک چھوٹا سا قرض نسلوں کو پابند کر دیتا ہے
یہ کھلی غلامی ہے جسے ہمارا معاشرہ اور انتظامیہ دانستہ طور پر نظر انداز کر دیتی ہے۔ اسی طرح، خواتین مزدوروں پر دوہرا بوجھ ہے وہ کھیتوں اور فیکٹریوں میں مردوں کے برابر بلکہ بعض اوقات زیادہ کام کرتی ہیں، لیکن انہیں اجرت مردوں سے کم دی جاتی ہے۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی ناانصافی ہے۔
ہمارے ہنر مند طبقے یعنی ویلڈرز، ٹیکنیشنز اور مشین آپریٹرز کا حال بھی مختلف نہیں۔ ان کے پاس مہارت تو ہے مگر مستقبل کا تحفظ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا بہترین دماغ اور ہاتھ ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جا رہے ہیں
پیچھے سستی اور غیر تربیت یافتہ لیبر رہ جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کام کا معیار گر جاتا ہے اور قومی معیشت مسلسل کمزور ہوتی رہتی ہے
یہ مسائل حل ہوسکتے ہیں لیکن ان کے حل کے لیے نیت کی ضرورت ہے ہر مزدور کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا جائے اور بینکوں کے ذریعے ادائیگی لازمی قرار دی جائے
سوشل سیکیورٹی اور ہیلتھ کارڈ کو مزدور کا احسان نہیں بلکہ قانونی حق بنایا جائے جب تک ہم ہنر مند مزدور کو وہ عزت اور تحفظ نہیں دیں گے جو ایک افسر کو حاصل ہے، ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
یہ صرف مزدور کا مسئلہ نہیں، یہ ریاست کی بقا کا مسئلہ ہے۔ کمزور اور بھوکا مزدور کبھی ایک مضبوط معیشت کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں سستی محنت چاہیے یا ایک مضبوط ملک؟
کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ یاد رکھیے یہ کہانی صرف بہتے ہوئے پسینے کی نہیں بلکہ انصاف کی ہے اور جب تک ریاست انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرے گی، یہ پسینہ یونہی مٹی میں رلتا رہے گا
تعارف: عارف روہیلہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور مختلف فورمز پر مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی پہچان صنعتی تعلقات، لیبر قوانین کی پاسداری اور محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی انتھک اور اصولی جدوجہد ہے
